(۱۲۰۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ شِہَابٍ یَقُولُ : کَانَتْ ضَوَالُّ الإِبِلِ فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِبِلاً مُؤَبَّلَۃً تَنَاتَجُ لاَ یَمَسُّہَا حَتَّی إِذَا کَانَ زَمَانُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَرَ بِمَعْرِفَتِہَا وَتَعْرِیفِہَا ثُمَّ تُبَاعُ فَإِذَا جَائَ صَاحِبُہَا أُعْطِیَ ثَمَنَہَا۔ [صحیح۔ مالک ۱۴۸۸]
(١٢٠٨٠) ابن شہاب کہتے ہیں : حضرت عمربن خطاب (رض) کے زمانہ میں گمشدہ اونٹ جفتی کے لیے تھے، ان کو کسی نے نہ پکڑا یہاں تک کہ جب حضرت عثمان (رض) کا زمانہ آیا تو آپ نے ان کے اعلان کا حکم دیا ۔ پھر ان کو بیچ دیا گیا ۔ جب ان کا مالک آیا تو اسے اس کی قیمت دی گئی۔