(۱۲۰۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً ثُمَّ اعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا وَوِعَائَ ہَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَادْفَعْہَا إِلَیْہِ وَإِلاَّ فَاسْتَنْفِقْہَا أَوِ اسْتَمْتِعْ بِہَا ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ضَالَّۃُ الْغَنَمِ فَقَالَ : إِنَّمَا ہِیَ لَکَ أَوْ لأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ ۔ فَسَأَلَہُ عَنْ ضَالَّۃِ الإِبِلِ فَتَغَیَّرَ وَجْہُہُ وَقَالَ : مَا لَکَ وَلَہَا مَعَہَا حِذَاؤُہَا وَسِقَاؤُہَا تَرِدُ الْمَائَ وَ تَأْکُلُ الشَّجَرَ دَعْہَا حَتَّی تَلْقَی رَبَّہَا ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنِ الثَّوْرِیِّ دُونَ قَوْلِہِ وِعَائَ ہَا وَقَالَ : فَإِنْ جَائَ أَحَدٌ یُخْبِرُکَ بِہَا وَإِلاَّ فَاسْتَنْفِقْہَا۔ [صحیح]
(١٢٠٨٥) زید بن خالد (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نی فرمایا : ایک سال تک اس کا اعلان کر، پھر اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لینا اور اس کو یاد رکھنا۔ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دینا ورنہ اپنے خرچ میں شامل کرلے اور اس سے فائدہ اٹھا۔ اس نے گمشدہ بکری کے بارے میں سوال کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یابھیڑیی کے لیے ہے، اس نے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ سرخ ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے اس میں کیا ہے ؟ اس کے ساتھ اس کا جوتا اور مشکیزہ ہے، وہ پانی پی سکتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے، اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کا مالک مل جائے۔