(۱۲۱۱۲) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : أُفْتِی الْمُلْتَقِطَ إِذَا عَرِفَ الْعِفَاصُ وَالْوَکَائُ وَالْعَدَدُ وَالْوَزْنُ وَوَقَعَ فِی نَفْسِہِ أَنَّہُ لَمْ یَدَّعِ بَاطِلاً أَنْ یُعْطِیَہُ وَلاَ أُجْبِرَہُ فِی الْحَکَمِ إِلاَّ بِبَیِّنَۃٍ تَقُومُ عَلَیْہَا کَمَا تَقُومُ عَلَی الْحُقُوقِ ثُمَّ سَاقَ الْکَلاَمَ إِلَی أَنْ قَالَ وَإِنَّمَا قَوْلُہُ -ﷺ- : اعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا ۔ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنْ یُؤَدِّی عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا مَعَ مَا یُؤَدِّی مِنْہَا وَلِیَعْلَمَ إِذَا وَضَعَہَا فِی مَالِہِ أَنَّہَا اللُّقَطَۃُ دُونَ مَالِہِ وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ اسْتَدَلَّ عَلَی صِدْقِ الْمُعْتَرِفِ وَہَذَا الأَظْہَرُ إِنَّمَا قَوْلُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : الْبَیِّنَۃُ عَلَی الْمُدَّعِی ۔ فَہَذَا مُدَّعِی أَرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ عَشْرَۃً أَوْ أَکْثَرَ وَصَفُوہَا کُلُّہُمْ فَأَصَابُوا صِفَتَہَا أَلَنَا أَنْ نُعْطِیَہُمْ إِیَّاہَا یَکُونُونَ شُرَکَائَ فِیہَا وَلَوْ کَانُوا أَلْفًا أَوْ أَلْفَیْنِ وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّ کُلَّہُمْ کَاذِبٌ إِلاَّ وَاحِدًا بِغَیْرِ عَیْنِہِ وَلَعَلَّ الْوَاحِدَ أَنْ یَکُونَ کَاذِبًا لَیْسَ یَسْتَحِقُّ أَحَدٌ بِالصِّفَۃِ شَیْئًا۔ [صحیح]
(١٢١١٢) ربیع بن سلیمان نے فرمایا کہ امام شافعی (رح) نے فرمایا : کوئی چیز گم کرنے والے کے بارے میں فتویٰ دیا گیا ہے جب وہ تھیلی، بندھن ، تعداد اور وزن کو پہچان لے اور اس کے دل میں یہ بات نہ ہو کہ وہ باطل کا دعویٰ کررہا ہے کہ اسے مل جائے اور نہ فیصلے میں اسے مجبور کیا جائے مگر صرف اس سے قسم لی جائے گی جس طرح حقوق میں قسم لی جاتی ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو اور وہ اس کی تھیلی اور بندھن وغیرہ بھی ساتھ دے دو اور جب اپنے مال کے ساتھ اسے رکھے تو یاد رکھے کہ یہ لقطہ والا مال ہے اور احتمال ہے کہ یہ اعتراف کرنے والے کے صدق پر دلالت کرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول سے ظاہر ہے کہ قسم دعویٰ کرنے والے پر ہے، یہ مدعی ہے، آپ کی رائے ہے کہ اگر دس یا اس سے زیادہ لوگ اس کے اوصاف بیان کردیں اور ان کی بات درست ہو تو کیا ہم ان کو لوٹا دیں گے جو اس میں شریک ہیں اور اگر ہزار یا دو ہزار ہوں اور ہمیں علم ہے کہ وہ سارے جھوٹے ہیں سوائے ایک کے شاید کہ ایک بھی جھوٹا ہو اور کسی بھی چیز کے اوصاف سے فواقف نہ ہو۔