(۱۲۱۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَلْیَتَعَلَّمِ الْفَرَائِضَ وَلاَ یَکُنْ کَرَجُلٍ لَقِیَہُ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ لَہُ : یَا عَبْدَ اللَّہِ أَأَعْرَابِیٌّ أَمْ مُہَاجِرٌ فَإِنْ قَالَ مُہَاجِرٌ قَالَ : إِنْسَانٌ مِنْ أَہْلِی مَاتَ فَکَیْفَ یَقْسِمُ مِیرَاثَہُ فَإِنْ عَلِمَ کَانَ خَیْرًا أَعْطَاہُ اللَّہُ إِیَّاہُ وَإِنْ قَالَ لاَ أَدْرِی قَالَ : فَمَا فَضْلُکُمْ عَلَیْنَا إِنَّکُمْ تَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ وَلاَ تَعْلَمُونَ الْفَرَائِضَ۔ [صحیح]
(١٢١٧٩) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا، جو قرآن سیکھتا ہے اسے چاہیے کہ فرائض بھی سیکھے اور نہ ہونا اس آدمی کی طرح کہ جسے کوئی دیہاتی ملے اور وہ کہے : اے اللہ کے بندے ! کیا دیہاتی ہو یا مہاجر ؟ اگر وہ کہے کہ مہاجر ہوں تو وہ دیہاتی کہے میرے گھر والوں میں سے ایک انسان فوت ہوگیا ہے اس کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی، پس اگر وہ جانتا ہوگا تو اس کے لیے بہتر ہے جو اللہ نے اسے دیا ہے اور اگر وہ کہے : میں نہیں جانتا تو دیہاتی کہے گا کہ ہم پر تم کو کس چیز کی فضیلت ہے ؟ تم قرآن سیکھتے ہو لیکن فرائض نہیں سیکھتے۔