(۱۲۲۴۹) یَعْنِی مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِیرِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَامَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَقَالَ : لاَ یَتَوَارَثُ أَہْلُ مِلَّتَیْنِ الْمَرْأَۃُ تَرِثُ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا وَمَالِہِ وَہُوَ یَرِثُ مِنْ دِیَتِہَا وَمَالِہَا مَا لَمْ یَقْتُلْ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ عَمْدًا فَإِنْ قَتَلَ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ عَمْدًا لَمْ یَرِثْ مِنْ دِیَتِہِ وَمَالِہِ شَیْئًا وَإِنْ قَتَلَ صَاحِبَہُ خَطَأً وَرِثَ مِنْ مَالِہِ وَلَمْ یَرِثْ مِنْ دِیَتِہِ ۔
قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ۔ قَالَ عَلِیٌّ : مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ الطَّائِفِیُّ ثِقَۃٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِیُّ وَلَیْسَ بِحَجَّۃٍ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مَخْرَمَۃَ بْنِ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمْرٍو والشَّافِعِیُّ کَالْمُتَوَقِّفِ فِی رِوَایَاتِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ إِذَا لَمْ یَنْضَمَّ إِلَیْہَا مَا یُؤَکِّدُہَا۔ [ضعیف جداً۔ السلسلۃ الضعیفہ ۴۶۷۴]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : لَیْسَ فِی الْفَرَقِ بَیْنَ أَنْ یَرِثَ قَاتِلُ الْخَطَإِ وَلاَ یَرِثُ قَاتِلُ الْعَمْدِ خَبَرٌ یُتَّبَعُ إِلاَّ خَبَرَ رَجُلٍ فَإِنَّہُ یَرْفَعُہُ لَوْ کَانَ ثَابِتًا کَانَتِ الْحُجَّۃُ فِیہِ وَلَکِنْ لاَ یَجُوزُ أَنْ یُثْبَتَ لَہُ شَیْئٌ وَیُرَدَّ لَہُ آخَرُ لاَ مُعَارِضَ لَہُ
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَإِذَا لَمْ یَثْبُتِ الْحَدِیثُ فَلاَ یَرِثُ عَمْدًا وَلاَ خَطَأً شَیْئًا أَشْبَہُ بِعُمُومِ أَنْ لاَ یَرِثَ قَاتِلٌ مِمَّنْ قَتَلَ۔
(١٢٢٤٩) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے دن کھڑے ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو دینوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے اور عورت اپنے خاوند کی دیت اور مال سے وارث بنے گی اور وہ وارث بنے گا عورت کی دیت اور مال کا۔ جب ان میں سے ایک نے عمداً دوسرے کو قتل نہ کیا ہوگا۔ اگر ایک نے دوسرے کو عمداً قتل کیا تو اس کی دیت اور مال میں سے کسی چیز کا وارث نہ بنے، گا اگر قتل خطا کیا تو مال سے وارث ٹھہرے گا، دیت سے نہیں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : کوئی فرق نہیں کہ قتل خطا میں وارث بنے گا اور قتل میں وارث نہیں بنے گا مگر کسی ایسے آدمی کی خبر سے جو اسے مرفوع بیان کرے اور اگر ثابت ہو تو حجت ہوگی ۔ لیکن جائز نہیں کہ اس کے لیے کوئی چیز ثابت کی جائے اور دوسرا اس کا ردکرے۔
جب یہ حدیث ثابت نہیں تو وہ وارث نہیں بنے گا عمداً یا خطاً قتل کرے اس عموم سے واضح ہے کہ قاتل نے جسے قتل کیا اس کا وارث نہیں بن سکے گا۔