hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12253

.

سنن البيهقي

12253
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۲۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ عَبِیدَۃَ السَّلْمَانِیِّ قَالَ : کَانَ فِی بَنِی إِسْرَائِیلَ عَقِیمٌ لاَ یُولَدُ لَہُ وَکَانَ لَہُ مَالٌ کَثِیرٌ وَکَانَ ابْنُ أَخِیہِ وَارِثَہُ فَقَتَلَہُ ثُمَّ احْتَمَلَہُ لَیْلاً حَتَّی أَتَی بِہِ حَیًّا آخَرِینَ فَوَضَعَہُ عَلَی بَابِ رَجُلٍ مِنْہُمْ ثُمَّ أَصْبَحَ یَدَّعِیہِ عَلَیْہِمْ حَتَّی تَسَلَّحُوا وَرَکِبَ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضِ فَقَالَ ذُو الرَّأْیِ وَالنُّہَی : عَلَی مَا یَقْتُلُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا وَہَذَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِیکُمْ فَأَتَوْہُ فَقَالَ (إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَۃً قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا ہُزُوًا قَالَ أَعُوذُ بِاللَّہِ أَنْ أَکُونْ مِنَ الْجَاہِلِینَ) قَالَ فَلَوْ لَمْ یَعْتَرِضُوا الْبَقَرَ لأَجْزَأْتَ عَنْہُمْ أَدْنَی بَقَرَۃٍ وَلَکِنَّہُمْ شَدَّدُوا فَشُدِّدَ عَلَیْہِمْ حَتَّی انْتَہَوْا إِلَی الْبَقَرَۃِ الَّتِی أُمِرُوا بِذَبْحِہَا فَوَجَدُوہَا عِنْدَ رَجُلٍ لَیْسَ لَہُ بَقَرَۃٌ غَیْرُہَا فَقَالَ : وَاللَّہِ لاَ أَنْقُصُہَا مِنْ مِلْئِ جِلْدِہَا َأَخَذُوہَا بِمِلْئِ جِلْدِہَا ذَہَبًا فَذَبَحُوہَا فَضَرَبُوہُ بِبَعْضِہَا فَقَامَ فَقَالُوا : مَنْ قَتَلَکَ؟ قَالَ : ہَذَا لاِبْنِ أَخِیہِ ثُمَّ مَالَ مَیِّتًا فَلَمْ یُعِطَ ابْنُ أَخِیہِ مِنْ مَالِہِ شَیْئًا وَلَمْ یُوَرَّثْ قَاتِلٌ بَعْدَہُ۔ [حسن]
(١٢٢٤٨) عبیدہ سلمانی فرماتے ہیں : بنی اسرائیل میں ایک بانجھ آدمی تھا، اس کی کوئی اولاد نہ تھی اور اس کے پاس بہت زیادہ مال تھا اور اس کا ایک بھتیجا اس کا وارث تھا، اس نے اسے قتل کردیا اور رات کو میت کو اٹھا کر دوسرے قبیلے کے ایک آدمی کے گھر کے دروازے پر رکھ گیا، پھر صبح کے وقت ان پر دعویٰ کردیا، یہاں تک کہ انھوں نے لڑائی کے لیے اسلحہ نکال لیا اور ایک دوسرے کی طرف سوار ہو کر جانے لگے۔ ایک عقل مند نے کہا : کس وجہ سے تم ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے ہو، تم میں اللہ کا پیغمبر موجود ہے، پس اس پیغمبر نے کہا : اللہ تم کو حکم دیتے ہیں کہ ایک گائے ذبح کرو۔ انھوں نے کہا : کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے، اس نے کہا : میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوں۔ اگر وہ گائے پر اعتراض نہ کرتے تو ادنیٰ سی گائے بھی کافی تھی لیکن انھوں نے سختی اختیار کی، پس ان پر بھی سختی کردی گئی، یہاں تک کہ وہ اس گائے کے پاس آئے جس کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، انھوں نے اسے ایسے آدمی کے پاس پایا کہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور گائے نہ تھی۔ اس نے کہا : میں اس کا چمڑا بھرے ہوئے میں سے کچھ کم نہ کروں گا، پس انھوں نے چمڑا بھر کر سونے کے بدلے گائے لی، اس کو ذبح کیا، انھوں نے اس گائے کا کچھ حصہ میت کو لگایا وہ کھڑی ہوگئی۔ انھوں نے پوچھا : تجھے کس نے قتل کیا ہے ؟ اس نے کہا : میرے بھتیجے نے۔ پھر وہ مردہ ہوگیا۔ پس اس کے بھتیجے کو اس کے مال میں سے کچھ نہ دیا گیا اور نہ قاتل اس کے بعد اس کا وارث بنایا گیا۔