(۱۲۲۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیِّ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : مَا أَغْلَظَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَوْ مَا نَازَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی شَیْئٍ أَکْثَرَ مِنْ آیَۃِ الْکَلاَلَۃِ حَتَّی ضَرَبَ صَدْرِی وَقَالَ : یَکْفِیکَ مِنْہَا آیَۃُ الصَّیْفِ ۔ الَّتِی أُنْزِلَتْ فِی آخِرِ سُورَۃِ النِّسَائِ { یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللَّہُ یُفْتِیکُمْ فِی الْکَلاَلَۃِ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ وَسَأَقْضِی فِیہَا بِقَضَائٍ یَعْلَمُہُ مَنْ یَقْرَأُ وَمَنْ لاَ یَقْرَأُ وَہُوَ مَا خَلاَ الأَبَ کَذَا أَحْسِبُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ۔ [مسلم ۵۶۷]
(١٢٢٧٠) معدان بن ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے خطبہ دیا، اس میں یہ بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آیت کلالہ کے بارے میں بار بار سوال کیا۔ اتنا کسی اور چیز کے بارے میں نہیں پوچھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اتنی ہی سختی سے مجھے جواب دیا، یہاں تک کہ آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے وہ آیت کافی نہیں جو گرمی کے موسم میں نازل ہوئی۔ جو سورة نساء کے آخر میں ہے : { یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللَّہُ یُفْتِیکُمْ فِی الْکَلاَلَۃِ } عنقریب میں ایسا فیصلہ دوں گا کلالہ کے بارے میں اس کو جان لے گا جو پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا اور وہ (کلالہ) جس کا باپ نہ ہو جیسا کہ میں نے سمجھا ہے۔