(۱۲۲۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ یَسْتَفْتُونَکَ فِی الْکَلاَلَۃِ فَمَا الْکَلاَلَۃُ؟ قَالَ : تَجْزِیکَ آیَۃُ الصَّیْفِ ۔ قُلْتُ لأَبِی إِسْحَاقَ : ہُوَ مَنْ مَاتَ وَلَم یَدَعْ وَلَدًا وَلاَ وَالِدًا قَالَ : کَذَلِکَ ظَنُّوا أَنَّہُ کَذَلِکَ۔ [حسن۔ اخرجہ السجستانی ۲۸۸۹]
(١٢٢٧١) حضرت براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ آپ سے کلالہ کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ پس کلالہ کیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے گرمی کے موسم میں نازل ہونے والی آیت کافی ہوگی، میں نے ابواسحاق سے کہا : کلالہ وہ ہے جو فوت ہوجائے اور نہ اولاد چھوڑے نہ والدین اسی طرح انھوں نے خیال کیا۔