(۱۲۳۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو قَیْسٍ قَالَ سَمِعْتُ ہُزَیْلَ بْنَ شُرَحْبِیلَ یَقُولُ : سُئِلَ أَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ عَنِ ابْنَۃٍ وَابْنَۃِ ابْنٍ وَأُخْتٍ فَقَالَ : لِلاِبْنَۃِ النِّصْفُ وَلِلأُخْتِ النِّصْفُ قَالَ : وَائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَیُتَابِعُنِی فَسُئِلَ عَنْہَا ابْنُ مَسْعُودٍ وَأُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِی مُوسَی فَقَالَ : لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُہْتَدِینَ أَقْضِی فِیہِ بِمَا قَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلاِبْنَۃِ النِّصْفُ وَلاِبْنَۃِ الاِبْنِ السُّدُسُ تَکْمِلَۃَ الثُّلُثَیْنِ وَمَا بَقِیَ فَلِلأُخْتِ قَالَ : فَأَتَیْنَا أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ فَأَخْبَرْنَاہُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ : لاَ تَسْأَلُونِی عَنْ شَیْئٍ مَا دَامَ ہَذَا الْحَبْرُ فِیکُمْ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ۔ [حسن]
(١٢٣١٠) حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے بیٹی، پوتی اور بہن کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا : بیٹی کے لیے نصف اور بہن کے لیے بھی نصف اور کہا : ابن مسعود (رض) کے پاس جا، وہ بھی میرے والی بات کہیں گے، پس ابن مسعود (رض) سے اس بارے میں پوچھا گیا اور ان کو ابوموسیٰ (رض) کی بات بھی بتائی گئی تو انھوں نے کہا : تحقیق میں اس وقت گمراہ ہوں گا اور ہدایت پر نہیں ہوں گا، میں اس بارے میں فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ کیا کہ بیٹی کے لیے نصف، پوتی کے لیے سدس دو تہائی پورا کرنے والا اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے۔ راوی کہتے ہیں : ہم ابو موسیٰ کے پاس گئے، ہم نے ان کو ابن مسعود (رض) کی بات بتائی۔ انھوں نے کہا : تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں اس وقت تک سوال نہ کرو جب تک یہ تم میں موجود ہے۔