(۱۲۳۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ وَزَیْدٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یُطْعِمَانِ الْجَدَّۃَ أَوِ الثِّنْتَیْنِ أَوِ الثَّلاَثَ السُّدُسَ لاَ یُنْقَصْنَ مِنْہُ وَلاَ یُزَدْنَ عَلَیْہِ إِذَا کَانَتْ قَرَابَتُہُنَّ إِلَی الْمَیِّتِ سَوَائً فَإِنْ کَانَتْ إِحْدَاہُنَّ أَقْرَبَ فَالسُّدُسُ لَہَا دُونَہُنَّ۔ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ یُشْرِکُ بَیْنَ أَقْرَبِہِنَّ وَأَبَعْدِہِنَّ فِی السُّدُسِ إِنْ کُنَّ بِمَکَانٍ شَتَّی وَلاَ یَحْجُبُ الْجَدَّاتِ مِنَ السُّدُسِ إِلاَّ الأُمُّ۔ [ضعیف]
(١٢٣٦١) شعبی کہتے ہیں : حضرت علی اور زید (رض) دونوں ایک جدہ یا دو یا تین کو سدس کا وارث بناتے تھے، نہ اس سے کم کرتے اور نہ زیادہ۔ جب سب میت کے قریب ہوتیں۔ اگر ایک زیادہ قریبی ہوتی تو اس کے لیے ان کے علاوہ سدس ہوتا تھا، اور عبداللہ قریب اور دور والی سب کو سدس میں شریک کرتے تھے، اگرچہ وہ مختلف جگہ پر ہوتیں اور جدات کے لیے صرف ماں کو حاجب سمجھتے تھے۔