(۱۲۳۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی أَخْبَرَنَا یَزِیدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ : امْرَأَۃٌ تَرَکَتْ ابْنَیْ عَمِّہَا أَحَدُہُمَا زَوْجُہَا وَالآخَرُ أَخُوہَا لأُمِّہَا فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلأَخِ مِنَ الأُمِّ السُّدُسُ وَہُمَا شَرِیکَانِ فِیمَا یَبْقَی وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللَّہِ لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلأَخِ مِنَ الأُمِّ مَا بَقِیَ۔ قَالَ یَزِیدُ بِقَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یُؤْخَذُ۔ [ضعیف]
(١٢٣٧٩) شعبی سے روایت ہے کہ جو عورت چچا کے دو بیٹے چھوڑے ان میں سے ایک اس کا خاوند ہو اور دوسرا اس کا (اخیافی) بھائی ہو حضرت علی اور زید (رض) کے قول کے مطابق خاوند کے لیے نصف اور اخیافی بھائی کے لیے سدس ہے اور وہ دونوں باقی میں شریک ہوں گے اور عبداللہ (رض) کے قول میں خاوند کے لیے نصف اور باقی سارا اخیافی بھائی کے لیے ہے۔