(۱۲۴۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ وَیَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ عُقَیْلِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ سُلَیْمَانَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اسْتَأْذَنَ عَلَیْہِ یَوْمًا فَأَذِنَ لَہُ وَرَأْسُہُ فِی یَدِ جَارِیَۃٍ لَہُ تُرَجِّلُہُ فَنَزَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : دَعْہَا تُرَجِّلُکَ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَیَّ جِئْتُکَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِنَّمَا الْحَاجَۃُ لِی إِنِّی جِئْتُکَ لِتَنْظُرَ فِی أَمْرِ الْجَدِّ فَقَالَ زَیْدٌ : لاَ وَاللَّہِ مَا نَقُولُ فِیہِ۔ فَقَالَ عُمَرُ لَیْسَ وَحْیٍ حَتَّی نَزِیدَ فِیہِ وَنَنْقُصَ فِیہِ إِنَّمَا ہُوَ شَیْئٌ نُرَاہُ فَإِنْ رَأَیْتُہُ وَافَقَنِی تَبَعْتُہُ وَإِلاَّ لَمْ یَکُنْ عَلَیْکَ فِیہِ شَیْئٌ فَأَبَی زَیْدٌ فَخَرَجَ مُغْضَبًا قَالَ قَدْ جِئْتُکَ وَأَنَا أَظُنُّکَ سَتَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِی ثُمَّ أَتَاہُ مَرَّۃً أُخْرَی فِی السَّاعَۃِ الَّتِی أَتَاہُ الْمَرَّۃَ الأُولَی فَلَمْ یَزَلْ بِہِ حَتَّی قَالَ : فَسَأَکْتُبُ لَکَ فِیہِ فَکَتَبَہُ فِی قِطْعَۃِ قَتَبٍ وَضَرَبَ لَہُ مَثَلاً إِنَّمَا مَثَلُہُ مَثَلُ شَجَرَۃٍ نَبَتَتْ عَلَی سَاقٍ وَاحِدٍ فَخَرَجَ فِیہَا غُصْنٌ ثُمَّ خَرَجَ فِی الْغُصْنِ غُصْنٌ آخَرُ فَالسَّاقُ یَسْقِی الْغُصْنَ فَإِنْ قَطَعْتَ الْغُصْنُ الأَوَّلُ رَجَعَ الْمَائُ إِلَی الْغُصْنِ یَعْنِی الثَّانِی وَإِنْ قَطَعْتَ الثَّانِی رَجَعَ الْمَائُ إِلَی الأَوَّلِ فَأَتَی بِہِ فَخَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ ثُمَّ قَرَأَ قِطْعَۃَ الْقَتَبِ عَلَیْہِمْ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَالَ فِی الْجَدِّ قَوْلاً وَقَدْ أَمْضَیْتُہُ قَالَ: وَکَانَ أَوَّلُ جَدٍّ کَانَ فَأَرَادَ أَنْ یَأْخُذَ الْمَالَ کُلَّہُ مَالَ ابْنِ ابْنِہِ دُونَ إِخْوَتِہِ فَقَسَمَہُ بَعْدَ ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
[صحیح۔ الدارقطنی ۴/ ۹۸، ۸۰]
(١٢٤٢٨) حضرت سعید بن سلمان بن زید بن ثابت اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت زید کے پاس آنے کی اجازت چاہی ان کو اجازت دی گئی اور زید کا سر لونڈی کے ہاتھ میں تھا، وہ ان کو کنگھی کر رہی تھی، آپ نے اپنا سر کھینچ لیا، حضرت عمر (رض) نے زید سے کہا : اسے چھوڑ دو کہ وہ تجھے کنگھی کرے، زید نے کہا : اے امیرالمومنین ! اگر مجھے پیغام بھیجتے تو میں خود آجاتا، حضرت عمر (رض) نے کہا : مجھے کام تھا، اس لیے میں تیرے پاس آیا ہوں، تاکہ آپ دادے کے بارے میں غور کریں، زید نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم نے تو دادے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : یہ خفیہ چیز نہیں کہ ہم اس میں زیادتی یا کمی کریں۔ وہ تو ایسی چیز ہے کہ ہمارے خیال میں اگر میں اپنے موافق دیکھتا ہوں تو اس کی پیروی کرتا ہوں، ورنہ آپ کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔ زید نے انکار کیا، عمر (رض) غصہ کے ساتھ واپس آگئے اور کہا : میں تیرے پاس اس لیے آیا تھا کہ آپ مجھے میری ضرورت پوری کردیں گے، پھر دوسری دفعہ پہلے والے وقت پر ہی آئے، ہمیشہ آتے رہے یہاں تک زید نے کہا : میں آپ کو کچھ لکھ دیتا ہوں۔ زید نے پلان کے ایک ٹکڑے پر لکھ دیا اور اس کے لیے مثال بیان کی کہ اس دادا کی مثال درخت کی مانند ہے جو ایک تنے پر اگتا ہے اس سے ایکٹہنی نکلتی ہے پھر اس ٹہنی سے ایک اور ٹہنی نکلتی ہے تنا ٹہنی کو سیراب کرتا ہے اگر آپ پہلی ٹہنی کو کاٹ ڈالیں گے دوسری ٹہنی کی طرف پانی لوٹ آئے گا اور اگر دوسری کو کاٹ ڈالیں گے تو پہلی کی طرف پانی لوٹ آئے گا۔ عمر (رض) اسے لے کر آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا، پھر پلان کا ٹکڑا پڑھا، پھر کہا : یہ زید بن ثابت (رض) نے دادا کے بارے میں کہا ہے اور میں نے اسے نافذ کردیا ہے۔ (راوی کہتے ہیں) عمر (رض) پہلے دادی تھے (جو وارث بنے) انھوں نے ارادہ کیا کہ اپنے پوتے کا سارا مال اس کے بھائیوں کے سوا لے لیں، عمر بن خطاب (رض) نے اس کے بعد اسے تقسیم کردیا۔