hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12434

.

سنن البيهقي

12434
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۴۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی أَبُو طَاہِرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ قَالَ : أَخَذَ أَبُو الزِّنَادِ ہَذِہِ الرِّسَالَۃَ مِنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمِنْ کُبَرَائِ آلِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ لِعَبْدِ اللَّہِ مُعَاوِیَۃَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ مِنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَذَکَرَ الرِّسَالَۃَ بِطُولِہَا وَفِیہَا : وَلَقَدْ کُنْتُ کَلَّمْتُ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی شَأْنِ الْجَدِّ وَالإِخْوَۃِ مِنَ الأَبِ کَلاَمًا شَدِیدًا وَأَنَا یَوْمَئِذٍ أَحْسَبُ أَنَّ الإِخْوَۃَ أَقْرَبُ حَقًّا فِی أَخِیہِمْ مِنَ الْجَدِّ وَیَرَی ہُوَ یَوْمَئِذٍ أَنَّ الْجَدَّ ہُوَ أَقْرَبُ مِنَ الإِخْوَۃِ فَطَالَ تَحَاوُرُنَا فِیہِ حَتَّی ضَرَبْتُ لَہُ بَعْضَ بَنِیہِ مَثَلاً بِمِیرَاثِ بَعْضِہِمْ دُونَ بَعْضٍ فَأَقْبَلَ عَلَیَّ کَالْمُغْتَاظِ فَقَالَ : وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ لَوْ أَنِّی قَضَیْتُہُ الْیَوْمَ لِبَعْضِہِمْ دُونَ بَعْضٍ لَقَضَیْتُہُ لِلْجَدِّ وَلَرَأَیْتُ أَنَّہُ أَوْلَی بِہِ وَلَکِنْ لَعَلَّہُمْ أَنْ یَکُونُوا ذَوِی حَقٍّ وَلَعَلِّی لاَ أُخَیِّبُ سَہْمَ أَحَدٍ مِنْہُمْ وَسَوْفَ أَقْضِی بَیْنَہُمْ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی نَحْوَ الَّذِی أَرَی یَوْمَئِذٍ فَحَسِبْتُہُ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّہَ أَنَّ ذَلِکَ مِنْ آخِرِ کَلاَمٍ حَاوَرْتُ فِیہِ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ فِی شَأْنِ الْجَدِّ وَالإِخْوَۃِ ثُمَّ حَسِبْتُ أَنَّہُ کَانَ یَقْسِمُ بَعْدَہُمْ ثُمَّ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَ الْجَدِّ وَالإِخْوَۃِ نَحْوَ الَّذِی کَتَبْتُ بِہِ إِلَیْکَ فِی ہَذِہِ الصَّحِیفَۃِ وَحَسِبْتُ أَنِّی قَدْ وَعَیْتُ ذَلِکَ فِیمَا حَضَرْتُ مِنْ قَضَائِہِمَا۔ وَزَادَ فِیہِ غَیْرُہُ عَنِ ابْنِ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا اسْتَشَارَہُمْ فِی مِیرَاثِ الْجَدِّ وَالإِخْوَۃِ قَالَ زَیْدٌ : وَکَانَ رَأْیِی یَوْمَئِذٍ أَنَّ الإِخْوَۃَ ہُمْ أَوْلَی بِمِیرَاثِ أَخِیہِمْ مِنَ الْجَدِّ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَرَی یَوْمَئِذٍ أَنَّ الْجَدَّ أَوْلَی بِمِیرَاثِ ابْنِ ابْنِہِ مِنْ إِخْوَتِہِ قَالَ : زَیْدٌ فَضَرَبْتُ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ذَلِکَ مَثَلاً فَقُلْتُ لَہُ : لَوْ أَنَّ شَجَرَۃً تَشَعَّبَ مِنْ أَصْلِہَا غُصْنٌ ثُمَّ تَشَعَّبَ مِنْ ذَلِکَ الْغُصْنِ خُوْطَانِ ذَلِکَ الْغُصْنِ یَجْمَعُ ذَیْنَکَ الْخُوْطَیْنِ دُونَ الأَصْلِ وَیَغْذُوہُمَا أَلاَ تَرَی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَنْ أَحَدَ الْخُوْطَیْنِ أَقْرَبُ إِلَی أَخِیہِ مِنْہُ إِلَی الأَصْلِ قَالَ زَیْدٌ: اضْرِبْ لَہُ أَصْلَ الشَّجَرَۃِ مَثَلاً لِلْجَدِّ وَاضْرِبِ الْغُصْنَ الَّذِی تَشَعَّبَ مِنَ الأَصْلِ مَثَلاً لِلأَبِ وَاضْرِبِ الْخُوْطَیْنِ اللَّذَیْنِ تَشَعَّبَا مِنَ الْغُصْنِ مَثَلاً لِلإِخْوَۃِ۔[ضعیف]
(١٢٤٢٩) عبدالرحمن بن ابی زناد نے خبر دی کہ ابو زناد نے یہ رسالہ خارجہ بن زید اور آل زید بن ثابت کے بڑے لوگوں سے لیا ہے : بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ کے بندے معاویہ امیرالمومنین کے لیے زید بن ثابت (رض) کی طرف سے ہے، پس رسالہ کی لمبائی اور جو اس میں تھا اس کا ذکر کیا۔ تحقیق میں نے عمر بن خطاب (رض) سے داد کے بارے میں کافی سخت بات کی ہے اور علاتی بھائیوں کے بارے میں اور اس دن میرے خیال میں بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ قریبی حق دار ہے اور عمر (رض) کا خیال تھا کہ دادا بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے، ہم دونوں کی باتیں لمبی ہوگئیں یہاں تک کہ میں نے بعض بیٹوں کی بعض کے ساتھ میراث کی مثال بیان کی، علی (رض) غصہ کی حالت میں آگئے اور کہا : اللہ کی قسم ! جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اگر میں آج اس بارے فیصلہ کرتا تو دادا کے حق میں فیصلہ کرتا اور میرے خیال وہ اس کا زیادہ حق دار ہے لیکن ہوسکتا ہے وہ حق والے ہوں اور شاید میں ان میں سے کسی حصہ دار کو محروم نہ کروں اور عنقریب اگر اللہ نے چاہا تو میں ان کے درمیان فیصلہ کروں گا اسی طرح جس طرح میں اس دن خیال کرتا ہوں اور میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور بیشک یہ آخری باتیں ہیں جو میں نے دادا اور بھائی کے بارے میں عمر بن خطاب (رض) سے کیں ہیں، پھر میں نے خیال کیا کہ وہ اس کے بعد ان میں تقسیم کریں گے ۔ پھر عثمان بن عفان (رض) نے بھی دادا اور بھائیوں کے درمیان ایسا ہی کیا جیسا کہ میں نے اس صحیفہ میں لکھا ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ میں نے دونوں کے فیصلہ کے وقت اس کو یاد کیا ہے۔
بعض نے ان الفاظ کو زیادہ کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان سے دادا اور بھائیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ اور زید (رض) نے کہا : اس دن میری رائے یہ تھی کہ بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ حق دار ہیں اور عمر (رض) کی رائے تھی کہ دادا اپنے پوتے کی وجہ سے بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے، زید نے کہا : میں نے عمر کے لیے اس کی مثال بیان کی۔
میں نے کہا : اگر ایک درخت کی اصل سے ایک ٹہنی نکلے پھر اس ٹہنی سے دو ٹہنیاں اور نکلیں یہ دونوں اصل کے علوہ جمع ہوجائیں گی اور وہ (اصل) ان دونوں کو غذا دے گی۔ اے امیرالمومنین ! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ دونوں میں سے ایک ٹہنی اپنے ساتھی کے ساتھ قریب ہے اصل سے ؟ زید نے کہا : درخت کی اصل کو دادا کی مانند بیان کرو اور اصل سے نکلنے والی ٹہنی کو باپ کی مانند اور اس ٹہنی سے نکلنے والی دو ٹہنیاں بھائیوں کی مانند ہیں۔