(۱۲۴۴۵) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ : أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ کَانَ یُشْرِکُ الْجَدَّ إِلَی الثُّلُثِ مَعَ الإِخْوَۃِ وَالأَخَوَاتِ فَإِذَا بَلَغَ الثُّلُثَ أَعْطَاہُ الثُّلُثَ وَکَانَ لِلإخْوَۃِ وَالأَخَوَاتِ مَا بَقِیَ وَلاَ یُوَرِّثُ أَخًا لأُمٍّ وَلاَ أُخْتًا لأُمٍّ مَعَ الْجَدِّ شَیْئًا وَلاَ یُقَاسِمُ بِہِمْ وَکَانَ یُقَاسِمُ لِلإِخْوَۃِ مِنَ الأَبِ مَعَ الإِخْوَۃِ لِلأَبِ وَالأُمِّ وَلاَ یُوَرِّثُہُمْ شَیْئًا وَإِذَا کَانَ أَخًا لأَبٍ وَأُمٍّ وَجَدٌّ أَعْطَاہُ النِّصْفَ وَأَعْطَی الْجَدَّ النِّصْفَ وَإِذَا کَانَا أَخَوَیْنِ وَجَدًّا أَعْطَاہُ الثُّلُثَ وَإِنْ زَادُوا أَعْطَاہُ الثُّلُثَ وَمَا بَقِیَ کَانَ لِلإِخْوَۃِ وَإِذَا کَانَتْ أُخْتٌ وَجَدٌّ أَعْطَاہَا الثُّلُثَ وَأَعْطَی الْجَدَّ الثُّلُثَیْنِ وَإِذَا کَانَتْ أُخْتَانِ وَجَدٌّ أَعْطَاہُمَا النِّصْفَ وَأَعْطَی الْجَدَّ النِّصْفَ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَنْ یَبْلُغْنَ خَمْسًا فَإِذَا بَلَغْنَ خَمْسًا أَعْطَاہُ الثُّلُثَ وَمَا بَقِیَ فَلِلأَخَوَاتِ فَإِنْ لَحِقَتْ فَرَائِضُ امْرَأَۃٍ أَوْ زَوْجٍ أَوْ أُمٍّ أَعْطَی أَہْلَ الْفَرَائِضِ فَرَائِضَہُمْ وَمَا بَقِیَ قَاسَمَ الإِخْوَۃَ وَالأَخَوَاتِ فَإِنْ کَانَ ثُلُثُ مَا بَقِیَ خَیْرًا لَہُ مِنَ الْمُقَاسَمَۃِ أَعْطَاہُ ثُلُثَ مَا بَقِیَ وَإِنْ کَانَتِ الْمُقَاسَمَۃُ خَیْرًا لَہُ مِنْ ثُلُثِ مَا بَقِیَ قَاسَمَ وَإِنْ کَانَ سُدُسُ جَمِیعِ الْمَالِ خَیْرًا لَہُ مِنَ الْمُقَاسَمَۃِ أَعْطَاہُ السُّدُسَ وَإِنْ کَانَتِ الْمُقَاسَمَۃُ خَیْرًا لَہُ مِنْ سُدُسِ جَمِیعِ الْمَالِ قَاسَمَ وَفِی الأَکْدَرِیَّۃِ إِذَا کَانَ زَوْجٌ وَأُمٌّ وَأُخْتٌ وَجَدٌّ جَعَلَہَا مِنْ تِسْعَۃٍ ثُمَّ ضَرَبَہَا فِی ثَلاَثَۃٍ فَکَانَ مِنْ سَبْعَۃٍ وَعِشْرِینَ فَأَعْطَی الزَّوْجَ تِسْعَۃَ أَسْہُمٍ وَأَعْطَی الأُمَّ سِتَّۃَ أَسْہُمٍ وَأَعْطَی الْجَدَّ ثَمَانِیَۃَ أَسْہُمٍ وَأَعْطَی الأُخْتَ أَرْبَعَۃَ أَسْہُمٍ۔ [صحیح]
(١٢٤٤٥) ابراہیم فرماتے ہیں : زید بن ثابت (رض) دادے کو بھائی اور بہنوں کے ساتھ ثلث تک شریک کرتے تھے، جب ثلث کو پہنچ جاتا تو اس کو ثلث دیتے تھے اور باقی ماندہ بھائیوں اور بہنوں کے لیے اور اخیافی بھائی، بہن کو دادے کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے اور ان کے ساتھ تقسیم کرتے تھے اور علاتی بھائیوں کے لیے حقیقی بھائیوں کے ساتھ تقسیم کرتے تھے اور نہ ان کو کسی چیز کا وارث بناتے تھے اور جب حقیقی بھائی اور دادا ہوتے تو دونوں کو نصف نصف دے دیتے تھے اور جب دو بھائی اور دادا ہوتے تو ان کو ثلث دیتے تھے اور جب وہ زیادہ ہوتے تو دادے کو ثلث اور باقی ماندہ بھائیوں کو دے دیتے تھے اور جب بہن اور دادا ہوتے تو بہن کو ثلث اور دادا دو ثلث دیتے تھے اور جب دو بہنیں اور ہوتے تو دونوں بہنوں کو نصف اور کو بھی نصف دیتے تھے، یہاں تک پانچ بہنیں ہوں تب بھی ایسا ہی تھا۔ جب پانچ ہوجائیں تو کو ثلث اور باقی بہنوں کو دے دیتے تھے۔ پس اگر مل جاتے عورت اور خاوند اور ماں کے حصے تو ہر صاحب فرائض کو اس کا حصہ دیتے اور باقی ماندہ بھائیوں اور بہنوں میں تقسیم کردیتے تھے۔ اگر باقی کا ثلث اس کے لیے تقسیم سے بہتر ہوتا تو اس کو ثلث دے دیتے تھے۔ اگر ثلث سے تقسیم اس کے لیے بہتر ہوتی تو تقسیم کردیتے تھے اور اگر سارے مال کا سدس اس کے لیے تقسیم سے بہتر ہوتا تو سدس اسے دے دیتے تھے اور اگر تقسیم سدس سے بہتر ہوتی تو تقسیم کردیتے تھے اور اکدریۃ میں جبکہ زوج، ماں، بہن اور دادا ہوتے تو اس کو نو حصوں میں کرتے پھر نو کو تین سے ملاتے تھے، یہ ستائیس ہوگئے، پھر خاوند کو نو حصے دیتے اور ماں کو چھ حصے دیتے اور دادے کو آٹھ حصے دیتے تھے اور بہن کو چار حصے دیتے تھے۔