hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12451

.

سنن البيهقي

12451
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۴۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الْخَلاَّلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ مَعَانِیَ ہَذِہِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَہَا عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَمَّا التَّفْسِیرُ فَتَفْسِیرُ أَبِی الزِّنَادِ عَلَی مَعَانِی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : وَمِیرَاثُ الْجَدِّ أَبِی الأَبِ مَعَ الإِخْوَۃِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ أَنَّہُمْ یُخَلَّفُونَ وَیُبْدَأُ بِأَحَدٍ إِنْ شَرِکَہُمْ مِنْ أَہْلِ الْفَرَائِضِ فَیُعْطَی فَرِیضَتَہُ فَمَا بَقِیَ لِلْجَدِّ وَالإِخْوَۃِ مِنْ شَیْئٍ فَإِنَّہُ یُنْظَرُ فِی ذَلِکَ وَیُحْسَبُ أَنَّہُ أَفْضَلُ لِحَظِّ الْجَدِّ الثُّلُثُ مِمَّا یَحْصُلُ لَہُ وَلِلإِخْوَۃِ أَمْ یَکُونَ أَخًا وَیُقَاسِمُ الإِخْوَۃَ فِیمَا حَصَلَ لَہُمْ وَلَہُ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ أَوِ السُّدُسُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ کُلِّہُ فَارِغًا فَأَیُّ ذَلِکَ مَا کَانَ أَفْضَلُ لِحَظِّ الْجَدِّ أُعْطِیَہُ وَکَانَ مَا بَقِیَ بَعْدَ ذَلِکَ بَیْنَ الإِخْوَۃِ لِلأُمِّ وَالأَبِ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ إِلاَّ فِی فَرِیضَۃٍ وَاحِدَۃٍ تَکُونُ قِسْمَتُہُمْ فِیہَا عَلَی غَیْرِ ذَلِکَ وَہِیَ امْرَأَۃٌ تُوُفِّیَتْ وَتَرَکَتْ زَوْجَہَا وَأُمَّہَا وَجَدَّہَا وَأُخْتَہَا لأَبِیہَا فَیُفْرَضُ لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلأُمِّ الثُّلُثُ وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ وَلِلأُخْتِ النِّصْفُ ثُمَّ یُجْمَعُ سُدُسُ الْجَدِّ وَنِصْفُ الأُخْتِ فَیُقْسَمُ أَثَلاَثًا لِلْجَدِّ مِنْہُ الثُّلُثَانِ وَلِلأُخْتِ الثُّلُثُ وَمِیرَاثُ الإِخْوَۃِ مِنَ الأَبِ مَعَ الْجَدِّ إِذَا لَمْ یَکُنْ مَعَہُمْ إِخْوَۃٌ لأُمٍّ وَأَبٍ کِمِیرَاثِ الإِخْوَۃِ مِنَ الأُمِّ وَالأَبِ سَوَائً ذَکَرُہُمْ کَذَکَرِہِمْ وَأُنْثَاہُمْ کَأُنْثَاہُمْ فَإِذَا اجْتَمَعَ الإِخْوَۃُ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ والإِخْوَۃُ مِنَ الأَبِ فَإِنْ بَنِی الأُمِّ وَالأَبِ یُعَادُّونَ الْجَدَّ بِبَنِی أَبِیہِمْ فَیَمْنَعُوہُ بِہِمْ کَثْرَۃَ الْمِیرَاثِ فَمَا حَصَلَ لِلإِخْوَۃِ بَعْدَ حَظِّ الْجَدِّ مِنْ شَیْئٍ فَإِنَّہُ یَکُونُ لِبَنِی الأُمِّ وَالأَبِ خَاصَّۃً دُونَ بَنِی الأَبِ وَلاَ یَکُونُ لِبَنِی الأَبِ مِنْہُ شَیْئٌ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ بَنُو الأُمِّ وَالأَبِ إِنَّمَا ہِیَ امْرَأَۃٌ وَاحِدَۃٌ فَإِنْ کَانَتِ امْرَأَۃٌ وَاحِدَۃٌ فَإِنَّہَا تُعَادُّ الْجَدَّ بِبَنِی أَبِیہَا مَا کَانُوا فَمَا حَصَلَ لَہَا وَلَہُمْ مِنْ شَیْئٍ کَانَ لَہَا دُونَہُمْ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ أَنْ تَسْتَکْمِلَ نِصْفَ الْمَالِ کُلِّہِ فَإِنْ کَانَ فِیمَا یُحَازُ لَہَا وَلَہُمْ فَضْلٌ عَنْ نِصْفِ الْمَالِ کُلِّہِ فَإِنْ ذَلِکَ الْفَضْلَ یَکُونُ بَیْنَ بَنِی الأَبِ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ فَإِنْ لَمْ یَفْضُلْ شَیْئٌ فَلاَ شَیْئَ لَہُمْ۔ [ضعیف]
(١٢٤٤٦) خارجہ بن زید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ دادا کی وراثت حقیقی بھائیوں کے ساتھ اس طرح ہے کہ ان کو پیچھے چھوڑا جائے گا اور پہلے اہل فرائض کو ان کے حصے دئیے جائیں گے باقی ماندہ جد اور بھائیوں کے لیے ہے۔ اس میں غور کیا جائے گا اور حساب لگایا جائے گا تو دادے کو افضل حصہ ثلث ہے جو اسے ملتا ہے اور بھائیوں یا ایک بھائی کے ساتھ تقسیم میں جو اسے حاصل ہو لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ کے تحت یا سارے مال کا سدس۔ پس ان میں سے جو بھی افضل ہو دادے کو دیا جائے گا۔ اس کے بعد جو بچے گا وہ حقیقی بھائیوں میں لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ کے تحت تقسیم ہوگا مگر یہ کہ کوئی ایسا حصہ ہو جس میں ان کی تقسیم اس کے علاوہ ہو، مثلاً عورت فوت ہوجائے اور خاوند، ماں، دادا اور علاتی بہن چھوڑے تو زوج کے لیے نصف، ماں کے لیے ثلث، دادے کے لیے سدس، بہن کے لیے نصف پھر جمع کیا جائے گا، کے سدس اور بہن کے نصف کو پس اسے تین میں تقسیم کیا جائے گا، اس سے کے لیے دو تہائی اور بہن کے لیے ثلث ہوگا اور علاتی بھائیوں کی وراثت کی طرح ہے مذکر و مونث میں برابر ہوں گے۔ جب حقیقی اور علاتی بھائی جمع ہوجائیں تو حقیقی اولاد جد کو علاتی اولاد کے ساتھ لوٹا دے گی پس وہ اسے روک دیں گے میراث زیادہ ہونے کی وجہ سے۔ جد کے حصہ کے بعد بھائیوں کو ملے گا وہ حقیقی اولاد کا ہوجائے گا، علاتی کے علاوہ اور علاتی اولاد کے لیے کچھ نہ ہوگا مگر یہ کہ حقیقی اولاد صرف ایک عورت ہو تو وہ کو علاتی اولاد کے ساتھ لوٹائے گی تو اس عورت اور ان کو کچھ نہیں ملے گا، اس کے لیے اور ان کے لیے وہ ہے جو نصف مال کو مکمل کردے اور اگر اس میں اس کے لیے کوئی خاص مال ہے تو وہ تمام نصف مال سے جو زائد ہے، اگر زائد ہے تو مرد کو دو عورت کے برابر ملے گا۔ اگر زائد نہ بچے تو ان کے لیے کچھ نہیں۔