(۱۲۴۴۷) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ أَصْحَابِ إِبْرَاہِیمَ وَالشَّعْبِیِّ وَإِبْرَاہِیمَ وَالشَّعْبِیِّ : أُمٌّ وَأُخْتٌ وَزَوْجٌ وَجَدٌّ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِلأُمِّ الثُّلُثُ وَلِلأُخْتِ النِّصْفُ وَلِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ مِنْ تِسْعَۃٍ وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللَّہِ لِلأُخْتِ النِّصْفُ وَلِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلأُمِّ الثُّلُثُ وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ مِنْ تِسْعَۃِ أَسْہُمٍ وَیُقَاسِمُ الْجَدُّ الأُخْتَ بِسُدُسِہِ وَنِصْفِہَا فَیَکُونُ لَہُ ثُلُثَاہُ وَلَہَا ثُلُثُہُ تُضْرَبُ التِّسْعَۃُ فِی ثَلاَثَۃٍ فَتَکُونُ سَبْعَۃً وَعِشْرُونَ لِلأُمِّ سِتَّۃٌ وَلِلزَّوْجِ تِسْعَۃٌ وَیَبْقَی اثْنَا عَشَرَ لِلْجَدِّ ثَمَانِیَۃٌ وَلِلأُخْتِ أَرْبَعَۃٌ وَہِیَ الأَکْدَرِیَّۃُ أُمُّ الْفُرُوخِ۔ [صحیح]
(١٢٤٤٧) شعبی سے منقول ہے کہ ماں، بہن، خاوند اور دادا کی میراث حضرت علی (رض) کے قول کے مطابق یہ ہے ماں کے لیے ثلث بہن کے لیے نصف، خاوند کے لیے نصف اور جد کے لیے سدس نو سے اور حضرت عبداللہ کے قول میں بہن کے لیے نصف اور خاوند کے لیے نصف ماں کے لیے ثلث اور جد کے لیے سدس نو حصوں سے اور جد اپنے سدس کو بہن کے نصف سے ملا لے گا۔ پس جد کے لیے دو تہائی اور بہن کے لیے ثلث ہوگا، نو کو تین سے ملایا جائے گا تو یہ ستائیس بن جائیں گے ماں کے لیے چھ، خاوند کے لیے نو اور باقی بارہ میں سے آٹھ جد کے لیے اور بہن کے لیے باقی چار حصے ہوں گے۔