(۱۲۴۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُتِی بِالْمُسْتَوْرِدِ الْعِجْلِیِّ فَقَتَلَہُ وَجَعَلَ مِیرَاثَہُ لأَہْلِہِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَأَعْطَاہُ النَّصَارَی بِجِیفَتِہِ ثَلاَثِینَ أَلْفًا فَأَبَی أَنْ یَبِیعَہُمْ إِیَّاہُ وَأَحْرَقَہُ۔ [ضعیف]
(١٢٤٦١) ابو عمرو شیبانی سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس مستورد عجلی کو لایا گیا، آپ نے اسے قتل کیا اور اس کی وراثت اس کے مسلمان اہل و عیال میں بانٹ دی۔ عیسائیوں نے اس کی لاش لینے کے لیے تیس ہزار دیے لیکن حضرت علی (رض) نے ان کو بیچنے سے انکار کردیا اور اسے جلا دیا۔