(۱۲۴۶۲) وَ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ أُتِیَ بِمُسْتَوْرِدٍ الْعِجْلِیِّ وَقَدِ ارْتَدَّ فَعَرَضَ عَلَیْہِ الإِسْلاَمَ فَأَبَی قَالَ فَقَتَلَہُ وَجَعَلَ مِیرَاثَہُ بَیْنَ وَرَثَتِہِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : قَدْ یَزْعُمُ بَعْضُ أَہْلِ الْحَدِیثِ مِنْکُمْ أَنَّہُ غَلَطٌ ۔ [صحیح]
قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ فَقُلْتُ لَہُ یَعْنِی لِلَّذِی یُنَاظِرُہُ ہَلْ سَمِعْتَ مِنْ أَہْلِ الْحَدِیثِ مِنْکُمْ مَنْ یَزْعُمُ أَنَّ الْحُفَّاظَ لَمْ یَحْفَظُوا عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَسَمَ مَالَہُ بَیْنَ وَرَثَتِہِ الْمُسْلِمِینَ وَنَخَافُ أَنْ یَکُونَ الَّذِی زَادَ ہَذَا غَلِطَ۔
قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَقَرَأْتُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی بَکْرٍ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ہَانِئٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنَّہُ ضَعَّفَ الْحَدِیثَ الَّذِی رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ مِیرَاثَ الْمُرْتَدِّ لِوَرَثَتِہِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔
قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رُوِّیتُ قِصَّۃَ الْمُسْتَوْرِدِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَلِیٍّ وَلَیْسَ فِیہَا ہَذِہِ اللَّفْظَۃُ وَإِنَّمَا فِیہَا أَنَّہُ لَمْ یَعْرِضْ لِمَالِہِ۔
(١٢٤٦٢) حضرت ابوعمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس مستوردعجلی کو لایا گیا، وہ مرتد ہوگیا تھا، آپ نے اس پر اسلام پیش کیا۔ اس نے انکار کردیا۔ حضرت علی (رض) نے اسے قتل کردیا اور اس کی میراث اس کے مسلمان رشتہ داروں کو دے دے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : تم میں سے بعض اہل حدیث خیال کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ دوسری جگہ فرمایا : میں نے اسے کہا : جس کا موقف یہ ہے کیا تو نے اہل حدیث سے سنا ہے جو میں گمان کرتا ہو کہ انھوں نے حضرت علی (رض) سے یاد نہیں رکھا کہ آپ نے اس کا مال اس مسلمان ورثاء کے درمیان تقسیم کردیا ہو اور ہم ڈرتے ہیں کہ جس نے یہ زیادتی (اضافہ) کی وہ غلط ہو۔
امام احمد نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، جس میں ہے کہ حضرت علی (رض) سے منقول ہے کہ مرتد کی میراث اس کے مسلمان ورثاء کے لیے ہے۔