(۱۲۴۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّہُمَا سُئِلاَ عَنْ وَلَدِ الْمُلاَعَنَۃِ وَوَلَدِ الزِّنَا مَنْ یَرِثُہُ فَقَالاَ : تَرِثُہُ أُمُّہُ حَقَّہَا وَإِخْوَتُہُ مِنْ أُمِّہِ حُقُوقَہُمْ وَیَرِثُ مَا بَقِیَ مِنْ مَالِہِ مَوَالِی أُمِّہِ إِنْ کَانَتْ مَوْلاَۃً وَإِنْ کَانَتْ عَرَبِیَّۃً وَرِثَتْ حَقَّہَا وَوَرِثَ إِخْوَتُہُ مِنْ أُمِّہِ حُقُوقَہُمْ وَوَرِثَ مَا بَقِیَ مِنْ مَالِہِ الْمُسْلِمُونَ۔
قَالَ مَالِکٌ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَذَلِکَ الأَمْرُ عِنْدَنَا وَالَّذِی أَدْرَکْتُ عَلَیْہِ أَہْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا۔ [ضعیف]
(١٢٤٩٦) عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار سے ملاعنہ کے بیٹے اور زنا سے پیدا ہونے والے بیٹے کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس کا وارث کون بنے گا تو دونوں نے کہا : اس کی وراثت کی حق دار اس کی ماں ہے اور اس کے اخیافی بھائی حق دار ہیں اور باقی مال کے وارث اس کی ماں کے موالی ہوں گے۔ اگر کوئی ہو تو اگر کوئی عربیۃ (عورت) اس کی وارث بنے اور اس کے اخیافی بھائی وارث ہوں گے اور اس کے باقی مال کے وارث مسلمان ہوں گے۔
امام مالک (رح) نے کہا : ہمارے ہاں یہی موقف ہے اور میں نے اپنے شہر کے اہل علم کو اسی پر پایا ہے۔