(۱۲۵۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ أَبَا حُذَیْفَۃَ بْنَ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَکَانَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تَبَنَّی سَالِمًا وَزَوَّجَہُ ابْنَۃَ أَخِیہِ ہِنْدَ بِنْتَ الْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ وَہُوَ مَوْلًی لاِمْرَأَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ کَمَا تَبَنَّی النَّبِیُّ -ﷺ- زَیْدًا وَکَانَ مَنْ تَبَنَّی رَجُلاً فِی الْجَاہِلِیَّۃِ دَعَاہُ النَّاسُ ابْنَہُ وَوَرِثَ مِنْ مِیرَاثِہِ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی ذَلِکَ {ادْعُوہُمْ لآبَائِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّہِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَائَ ہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِی الدِّینِ وَمَوَالِیکُمْ} فَرُدُّوا إِلَی آبَائِہِمْ فَمَنْ لَمْ یُعْلَمْ لَہُ أَبٌ کَانَ مَوْلًی وَأَخًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔
[صحیح۔ بخاری ۵۰۸۸۔ مسلم ۱۴۵۳]
(١٢٥٣٠) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ ان میں سے تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر میں حاضر ہوئے۔ انھوں نے سالم کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا اور اس کی شادی اپنی بھتیجی ہندہ بنت ولید بن عتبہ سے کی تھی اور سالم ایک انصاری عورت کے غلام تھے، جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید بن حارثہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا اور جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسے اسی کی طرف منسوب کر کے پکارتے تھے اور وہ بیٹا اس کی وراثت کا بھی حق دار ہوتا تھا، یہاں تک کہ آیت { ادْعُوہُمْ لآبَائِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّہِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَائَ ہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِی الدِّینِ وَمَوَالِیکُمْ } نازل ہوئی تو لوگ انھیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارنے لگے جس کے باپ کا علم نہ ہوتا اسے مولیٰ یا بھائی کہا جاتا تھا۔