(۱۲۵۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَکَذَلِکَ قَالَ أَکْثَرُ الْعَامَّۃِ إِلاَّ أَنَّ طَاوُسًا وَقَلِیلاً مَعَہُ قَالُوا : تَثْبُتُ لِلْقَرَابَۃِ غَیْرِ الْوَارِثِینَ فَمَنْ أَوْصَی لِغَیْرِ قَرَابَۃٍ لَمْ تَجُزْ فَوَجَدْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حَکَمَ فِی سِتَّۃِ مَمْلُوکِینَ کَانُوا لِرَجُلٍ لاَ مَالَ لَہُ غَیْرُہُمْ فَأَعْتَقَہُمْ عِنْدَ الْمَوْتِ فَجَزَّأَہُمُ النَّبِیُّ -ﷺ- ثَلاَثَۃَ أَجْزَائٍ فَأَعْتَقَ اثْنَیْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَۃً۔ [صحیح۔ الطیالسی ۸۸۴]
(١٢٥٤٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اسی طرح اکثر لوگوں نے کہا، سوائے طاؤس اور کچھ لوگ ان کے ساتھ اور ہیں جو کہتے ہیں : وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ثابت ہے جو وارث نہ ہوں۔ پس جس نے غیر رشتہ دار کے لیے وصیت کی تو جائز نہیں۔ ہم نے رسول اللہ کو پایا، آپ نے چھ غلاموں کے بارے میں فیصلہ کیا، وہ ایک آدمی کے تھے۔ اس کے پاس ان کے علاوہ اور مال نہ تھا۔ اس نے ان کو موت کے وقت آزاد کردیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو تین حصوں میں تقسیم کردیا : دو غلاموں کو آزاد کردیا اور چار کو باقی رکھا۔