(۱۲۵۴۹) أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَکَانَتْ دَلاَلَۃُ السُّنَّۃِ فِی حَدِیثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ بَیَّنَۃً أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَنْزَلَ عِتْقَہُمْ فِی الْمَرَضِ وَصِیَّۃً وَالَّذِی أَعْتَقَہُمْ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ وَالْعَرَبِیُّ إِنَّمَا یَمْلِکُ مَنْ لاَ قَرَابَۃَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ مِنَ الْعَجَمِ فَأَجَازَ النَّبِیُّ -ﷺ- لَہُمُ الْوَصِیَّۃَ۔ قَالَ الشَّیْخُ ہَذَا الْحَدِیثُ ثَابِتٌ مِنْ جِہَۃِ أَبِی الْمُہَلَّبِ وَمُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ عِمْرَانَ۔ [صحیح]
(١٢٥٤٩) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمران بن حصین کی حدیث میں دلیل ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی آزادی کے وقت آئے۔ بیماری میں وصیت کی وجہ سے عرب کے اس شخص نے ان کو آزاد کیا تھا اور وہ عربی ان کا مالک تھا، اس کا عربوں اور عجمیوں میں کوئی رشتہ دار نہ تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو وصیت کی اجازت دے دی۔