(۱۲۵۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حُجَیْرٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قِیلَ لَہُ : کَیْفَ تَأْمُرُ بِالْعُمْرَۃِ قَبْلَ الْحَجِّ وَاللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ { وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلَّہِ} فَقَالَ : کَیْفَ تَقْرَئُ ونَ الدَّیْنَ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ أَوِ الْوَصِیَّۃَ قَبْلَ الدَّیْنِ؟ قَالَ : الْوَصِیَّۃُ قَبْلَ الدَّیْنِ۔ قَالَ : فَبَأَیِّہِمَا تَبْدَئُ ونَ؟ قَالُوا : بِالدَّیْنِ۔قَالَ : فَہُوَ ذَلِکَ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ یَعْنِی أَنَّ التَّقْدِیمَ جَائِزٌ۔ [ضعیف]
(١٢٥٦٤) حضرت ابن عمر (رض) کو کہا گیا : آپ حج سے پہلے عمرہ کا حکم کیسے دیتے ہیں ؟ اللہ تو فرماتے ہیں : { وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلَّہِ } تو انھوں نے کہا : آپ قرض کو وصیت سے پہلے کیسے پڑھتے ہو ؟ یا وصیت کو قرض سے پہلے، اس نے کہا : وصیت قرض سے پہلے ہے، ابن عمر نے کہا : دونوں میں سے ابتداء کس سے کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا : قرض سے، ابن عمر (رض) نے کہا : ایسے ہی ہے۔