hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12570

.

سنن البيهقي

12570
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۵۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عبْدِ اللَّہِ بْنِ عبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی رِجَالٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْہُمْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ حَدَّثَہُمْ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ وَابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ نِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعُودُنِی عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ قَالَ وَبِی وَجَعٌ قَدِ اشْتَدَّ بِی فَقُلْتُ لَہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ بَلَغَ مِنِّی الْوَجَعُ مَا تَرَی وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلاَ تَرِثُنِی إِلاَّ ابْنَۃٌ فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِی؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : فَبِالشَّطْرِ؟ قَالَ : لاَ ۔ ُلْتُ : فَبِالثُّلُثِ؟ قَالَ : الثُّلُثُ کَبِیرٌ أَوْ کَثِیرٌ إِنَّکَ إِنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ تَدَعَہُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَۃً تَبْتَغِی بِہَا وَجْہَ اللَّہِ إِلاَّ أُجِرْتَ فِیہَا حَتَّی مَا تَجْعَلُ فِی فِی امْرَأَتِکَ ۔ قَالَ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَأُخَلِّفُ بَعْدَ أَصْحَابِی فَقَالَ : إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلاً صَالِحًا إِلاَّ ازْدَدْتَ بِہِ دَرَجَۃً وَرِفْعَۃً وَلَعَلَّکَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّی یَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّہُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِی ہِجْرَتَہُمْ وَلاَ تَرُدَّہُمْ عَلَی أَعْقَابِہِمْ ۔ لَکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ یَرْثِی لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ لَفْظُ حَدِیثِ الْقَطَّانِ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ وَہْبٍ قُلْتُ : فَبِالشَّطْرِ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : لاَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ۔ [بخاری ۱۲۹۶۔ ۲۷۴۲]
(١٢٥٦٥) عامر بن سعد بن ابی وقاص (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ الوداع کے سال میری عیادت کرنے آئے اور میں بہت زیادہ تکلیف میں تھا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بیماری آئی ہے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیکھ رہے ہیں اور میں مالدار ہوں اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے۔ کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت نہ کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں میں نے کہا : نصف کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ میں نے پوچھا : ثلث کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ثلث بھی زیادہ ہے۔ اگر تم اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑو تو اس سے بہتر ہے کہ انھیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور یقین کرو کہ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اس سے مقصود سے اللہ کی خوشنودی ہوئی تو تمہیں اس پر ثواب ملے گا یہاں تک کہ اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھو گے۔ میں نے کہا : اگر میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم پیچھے چھوڑ دییجاؤ اور پھر کوئی عمل کرو جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو تو تمہارا مرتبہ بلند ہوگا اور امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور کچھ لوگ تم سے فائدہ اٹھائیں گے اور کچھ نقصان اٹھائیں گے۔ اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت کو کامیاب فرما اور انھیں الٹے پاؤں واپس نہ کر، البتہ افسوس سعد بن خولہپر ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لیے افسوس کیا تھا کہ ان کا انتقال مکہ میں ہوا تھا۔