hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12572

.

سنن البيهقي

12572
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۵۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرِ بْنِ مَنْصُورٍ أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ : مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَیْتُ مِنْہُ فَأَتَانِی النَّبِیُّ -ﷺ- یَعُودُنِی فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی مَالاً کَثِیرًا وَلَیْسَتْ تَرِثُنِی إِلاَّ ابْنَۃٌ لِی فَأُوصِی بِمَالِی کُلِّہِ؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : فَبِالشَّطْرِ؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : فَبِالثُّلُثِ؟ قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ إِنَّکَ إِنْ تَتْرُکَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَہُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ إِنَّکَ لَعَلَّکَ أَنْ تُؤْجَرَ عَلَی جَمِیعِ نَفَقَتِکَ حَتَّی اللُّقْمَۃِ تَرْفَعُہَا إِلَی فِی امْرَأَتِکَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَرْہَبُ أَنْ أَمُوتَ بِأَرْضٍ ہَاجَرْتُ مِنْہَا قَالَ : إِنَّکَ لَعَلَّکَ أَنْ تَبْقَی حَتَّی یَنْتَفِعَ بِکَ قَوْمٌ وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّہُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِی ہِجْرَتَہُمْ وَلاَ تَرُدَّہُمْ عَلَی أَعْقَابِہِمْ ۔ لَکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ یَرْثِی لَہُ أَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ۔ [صحیح]
(١٢٥٦٧) عامر بن سعد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : میں فتح مکہ کے سال بیمار ہوا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری عیادت کی۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس مال زیادہ ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے، کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں، میں نے کہا : نصف کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں میں نے کہا : ثلث کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : ثلث ٹھیک ہے اور ثلث بھی زیادہ ہے۔ اگر تو اپنے ورثا کو غنی چھوڑ، وہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو محتاج چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ بیشک تجھے تمام خرچ پر اجر ملے گا حتیٰ کہ اگر تو اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھے گا تو اس میں بھی اجر ہے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے ڈر ہے کہ میں فوت ہوجاؤں گا۔ اس زمین میں جہاں سے ہجرت کی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ تو زندہ رہے گا، یہاں تک کہ کچھ لوگ تجھ سے نفع حاصل کریں گے اور کچھ نقصان پائیں گے۔ اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت کو کامیاب بنا اور انھیں الٹے پاؤں واپس نہ کر، لیکن سعد بن خولہ پر افسوس ہے اس لیے کہ وہ مکہ میں فوت ہوگئے تھے۔