(۱۲۵۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ الْعُمَرِیُّ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی الْعَبْسِیُّ قَالاَ َخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی مُرَاوِحٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ : إِیمَانٌ بِاللَّہِ وَجِہَادٌ فِی سَبِیلِہِ۔ قَالَ: فَأَیُّ الرَّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَغْلاَہَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُہَا عِنْدَ أَہْلِہَا۔ قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ: تُعِینُ ضَعِیفًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ ۔ قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ : تَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّکَ فَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ تَصَدَّقُ بِہَا عَلَی نَفْسِکَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۵۲۷]
(١٢٥٩٥) حضرت ابو ذر (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا : کونسی گردن آزاد کرنا افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور مالک کی نظر میں پسندیدہ ہو۔ اس نے کہا : اگر اس کی میں طاقت نہ رکھوں تو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسلمان کاریگر یا ہنر مند کی مدد کر، اس نے کہا : اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے یہ بھی صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے۔