(۱۲۶۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عِیسَی بْنِ مَعْقِلِ بْنِ أَبِی مَعْقِلٍ الأَسَدِیِّ أَسَدُ خُزَیْمَۃَ أَخْبَرَنِی یُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ مَعْقِلٍ قَالَتْ : لَمَّا حَجَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَجَّۃَ الْوَدَاعِ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ یَتَہَیَّئُوا مَعَہُ فَتَجَہَّزْنَا فَأَصَابَتْنِی ہَذِہِ الْقَرْحَۃُ الْحَصْبَۃُ أَوِ الْجُدَرِیُّ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَیْنَا مِنْ ذَلِکَ مَا شَائَ اللَّہُ فَأَصَابَنِی مَرَضٌ وَأَصَابَ أَبَا مَعْقِلٍ فَأَمَّا أَبُو مَعْقِلٍ فَہَلَکَ فِیہَا قَالَتْ : وَکَانَ لَنَا جَمَلٌ یُنْضَحُ عَلَیْہِ نَخَلاَتٍ لَنَا ہُوَ وَکَانَ ہُوَ الَّذِی نُرِیدُ أَنْ نَحُجَّ عَلَیْہِ قَالَتْ فَجَعَلَہُ أَبُو مَعْقِلٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ قَالَتْ وَشُغِلْنَا بِمَا أَصَابَنَا وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ حَجَّتِہِ جِئْتُ حِینَ تَمَاثَلْتُ مِنْ وَجَعِی فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ : یَا أُمَّ مَعْقِلٍ مَا مَنَعَکِ أَنْ تَخْرُجِیْنَ مَعَنَا فِی وَجْہِنَا ہَذَا ۔ قَالَتْ قُلْتُ : وَاللَّہِ لَقَدْ تَہَیَّأْنَا لِذَلِکَ فَأَصَابَتْنَا ہَذِہِ الْقَرْحَۃُ فَہَلَکَ أَبُو مَعْقِلٍ وَأَصَابَنِی مِنْہَا مَرَضٌ فَہَذَا حِینَ صَحَحْتُ مِنْہَا وَکَانَ لَنَا جَمَلٌ ہُوَ الَّذِی نُرِیدُ أَنْ نَخْرُجَ عَلَیْہِ فَأَوْصَی بِہِ أَبُو مَعْقِلٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ قَالَ : فَہَلاَّ خَرَجْتِ عَلَیْہِ فَإِنَّ الْحَجَّ مِنْ سَبِیلِ اللَّہِ أَمَا إِذْ فَاتَتْکِ ہَذِہِ الْحَجَّۃُ مَعَنَا فَاعْتَمِرِی عُمْرَۃً فِی رَمَضَانَ فَإِنَّہَا کَحَجَّۃٍ ۔ قَالَ فَکَانَتْ تَقُولُ : الْحَجَّ حَجٌّ وَالْعُمْرَۃُ عُمْرَۃٌ۔ وَقَدْ قَالَ فِی ہَذَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا أَدْرِی أَخَاصَّۃً لِی لِمَا فَاتَنِی مِنَ الْحَجِّ أَمْ ہِیَ لِلنَّاسِ عَامَّۃً ۔ قَالَ یُوسُفُ فَحَدَّثْتُ بِہَذَا الْحَدِیثِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ فِی زَمَنِ مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ : مَنْ سَمِعَ ہَذَا الْحَدِیثَ مَعَکَ مِنْہَا فَقُلْتُ : مَعْقِلُ بْنُ أَبِی مَعْقِلٍ وَہُوَ رَجُلٌ بَدَوِیٌّ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ مَرْوَانُ فَحَدَّثَہُ بِمِثْلِ مَا حَدَّثْتُہُ فَقُلْتُ : ِمَرْوَانُ إِنَّہَا حَیَّۃٌ فِی دَارِہَا بَعْدُ فَوَاللَّہِ مَا اطْمَأَنَّ إِلَی حَدِیثِنَا حَتَّی رَکِبَ إِلَیْہَا فِی النَّاسِ فَدَخَلَ عَلَیْہَا فَحَدَّثَتْہُ بِہَذَا الْحَدِیثِ۔ [ضعیف]
(١٢٦٠٣) یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنی دادی اُمّ ِمعقل سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کا حج کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تیاری کریں، ہم نے بھی تیاری کی، پس مجھے خسرہ یا چیچک کی بیماری لگ گئی۔ مجھے بھی بیماری لگ گئی اور ابو معقل کو بھی۔ ابو معقل تو اس بیماری میں فوت ہوگئے۔ کہتی ہیں : ہمارے پاس ایک اونٹ تھا، اس سے ہم اپنے باغ کو سیراب کرتے تھے اور اسی پر ہم حج کا ارادہ رکھتے تھے۔ ابو معقل نے اسے اللہ کے راستے میں وقف کردیا اور ہمیں بیماری نے روک دیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے گئے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حج سے واپس آئے تو میں اپنی بیماری سے ٹھیک ہوچکی تھی، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ام معقل ! تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے میں کس چیز نے روکا تھا ؟ کہتی ہیں : میں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم نے اس کی تیاری کی تھی، ہمیں یہ بیماری لگ گئی تھی۔ ابو معقل کو تو ہلاک کردیا اور میں بیمار تھی، پس جب میں صحیح ہوئی تو ہمارا اونٹ جس پر حج کا ارادہ تھا، اسے ابو معقل نے اللہ کے راستے میں واقف کردیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کیوں نہ اس پر نکلی، حج بھی اللہ کا راستہ ہی ہے، لیکن اب تجھ سے حج فوت ہوگیا ہے تو تو رمضان میں عمرہ کرلینا وہ بھی حج کی طرح ہی ہوگا۔ راوی کہتے ہیں : وہ کہتی تھیں : حج حج ہی ہے اور عمرہ عمرہ ہی ہے اور تحقیق اس بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : میں نہیں جانتی کہ میرے لیے خاص ہے کہ مجھ سے حج رہ گیا تھا یا لوگوں کے لیے عام ہے۔ یوسف کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث مروان کو بیان کی، وہ معاویہ کے زمانہ میں مدینہ کے امیر تھے، اس نے کہا : تیرے ساتھ یہ حدیث کسی اور نے سنی ہے ؟ میں نے کہا : معقل بن ابی معقل نے اور وہ دیہاتی آدمی ہے۔ مروان نے اس کی طرف پیغام بھیجا۔ پس اس نے بھی میری طرح ہی حدیث بیان کی۔ میں نے کہا : مروان وہ عورت (ام معقل) اپنے گھر میں زندہ ہے۔ اس کے بعد وہ ہماری حدیث پر مطمئن نہ ہوا یہاں تک کہ وہ سوار ہو کر اس کی طرف گیا پھر اس نے یہ حدیث بیان کی۔