(۱۲۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ زَنْجِیًّا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ یَعْنِی فَمَاتَ ، فَأَمَرَ بِہِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأُخْرِجَ ، وَأَمَرَ بِہَا أَنْ تُنْزَحَ قَالَ فَغَلَبَتْہُمْ عَیْنٌ جَائَ تْہُمْ مِنَ الرُّکْنِ ، فَأَمَرَ بِہَا فَدُسَّتْ بِالْقَبَاطِیِّ وَالْمَطَارِفِ حَتَّی نَزَحُوْہَا ، فَلَمَّا نَزَحُوْہَا انْفَجَرَتْ عَلَیْہِمْ۔
وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ : أَنَّ زَنْجِیًّا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ ، فَأَمَرَہُمُ ابْنُ عَبَّاسٍ بِنَزْحِہِ ، وَہَذَا بَلاَغٌ بَلَغَہُمَا۔ (ج) فَإِنَّہُمَا لَمْ یَلْقَیَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَلَمْ یَسْمَعَا مِنْہُ۔
وَرَوَاہُ جَابِرٌ الْجُعْفِیُّ مَرَّۃً عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَرَّۃً عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ نَفْسِہِ : أَنَّ غُلاَمًا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ فَنُزِحَتْ۔ (ج) وَجَابِرٌ الْجُعْفِیُّ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔
وَرَوَاہُ ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ۔ (ج) وَابْنُ لَہِیعَۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔
قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ : لاَ نَعْرِفُہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَمْزَمُ عِنْدَنَا مَا سَمِعْنَا بِہَذَا۔
[ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۳۳]
(١٢٦٢) ابن سیرین سے روایت ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گر کر مرگیا۔ سیدنا ابن عباس (رض) نے اس کو نکالنے کا حکم دیا اور فرمایا : کنویں کا سارا پانی نکالا جائے۔ کہتے ہیں : وہ : چشمہ ان پر غالب آگیا جو رکن کی جانب سے پھوٹ رہا تھا۔ ابن عباس کے حکم پر اس چشمے کو ختل لکڑیوں کے ساتھ بند کردیا گیا۔ جب لوگوں نے اس کو کھینچا خالی کرلیا اور لکڑیوں کو کھینچا تو وہ پھوٹ کر بہنے لگا۔
(ب) ابو عروبہ نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گرگیا تو سیدنا ابن عباس (رض) نے اسے کھینچ کر نکالنے کا حکم دیا۔ یہ خبر ان دونوں کو ملی۔ (ج) ان دونوں کی سیدنا ابن عباس (رض) سے ملاقات اور سماع ثابت ہیں۔ (د) جابر جعفی کبھی ابو طفیل عن ابن عباس سے اور کبھی ابوطفیل خود ہی روایت کرتا ہے کہ ایک غلام زمزم میں گرگیا تو اس کو کھینچ کر نکالا گیا۔ جابر جعفی قابل حجت نہیں (ر) ابن لھیعہ نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے اور ابن لھیعہ قابل حجت نہیں۔ (س) زعفرانی امام شافعی (رح) کا قول ذکر کرتے ہیں کہ اس روایت کو ابن عباس (رض) سے نقل کرنا معلوم نہیں۔ زمزم ہمارے پاس ہے اس کے متعلق کوئی ایسا واقعہ نہیں سنا گیا۔