(۱۲۶۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ َخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : کَانُوا یَکْتُبُونَ فِی صُدُورِ وَصَایَاہُمْ ہَذَا مَا أَوْصَی بِہِ فُلاَنُ ابْنُ فُلاَنٍ أَوْصَی أَنَّہُ یَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ وَأَنَّ السَّاعَۃَ آتِیَۃٌ لاَ رَیْبَ فِیہَا وَأَنَّ اللَّہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ وَأَوْصَی مَنْ تَرَکَ بَعْدَہُ مِنْ أَہْلِہِ أَنْ یَتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَأَنْ یُصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِہِمْ وَیُطِیعُوا اللَّہَ وَرَسُولَہُ إِنْ کَانُوا مُؤْمِنِینَ وَأَوْصَاہُمْ بِمَا وَصَّی بِہِ إِبْرَاہِیمُ بَنِیہِ وَیَعْقُوبَ { یَا بَنِیَّ إِنَّ اللَّہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّینَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [صحیح۔ عبدالرزاق ۱۶۳۱۹]
(١٢٦٨٣) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں، وہ اپنی وصیتوں کے شروع میں لکھتے تھے، یہ فلاں بن فلاں کی وصیت ہے وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور قیامت قائم ہونے والی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور اس نے وصیت کی اپنے بعد والوں کو کہ وہ اللہ سے اس طرح ڈریں جس طرح ڈرنے کا حق ہے اور اپنے درمیان صلح صفائی سے رہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کریں۔ اگر وہ مومن ہیں اور وہ ان کو وصیت کرتا جو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے یعقوب کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹے ! اللہ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے، پس تم اسلام کی حالت میں فوت ہونا۔