(۱۲۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ حِکَایَۃً عَنْ خَالِدٍ الْوَاسِطِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ عَنْ عَلِیٍّ : فِی الْفَأْرَۃِ تَقَعُ فِی الْبِئْرِ فَتَمُوتُ قَالَ : تُنْزَحُ حَتَّی تَغْلِبَہُمْ۔
فَہَذَا غَیْرُ قَوِیٍّ۔ لأَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِیِّ لَمْ یَسْمَعْ عَلِیًّا فَہُوَ مُنْقَطِعٌ۔
قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ رَوَی ابْنُ أَبِی یَحْیَی عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَۃُ فِی الْبِئْرِ فَمَاتَتْ فِیہَا نُزِحَ مِنْہَا دَلْوٌ أَوْ دَلْوَانِ یَعْنِی فَإِنْ تَفَسَّخَتْ نُزِحَ مِنْہَا خَمْسَۃٌ أَوْ سَبْعَۃٌ وَہَذَا أَیْضًا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۷۱۱]
(١٢٧٠) (الف) سیدنا علی (رض) نے اس چوہیا کے متعلق فرمایا جو کنویں میں گر کر مرگئی تھی کہ اسے نکالا جائے تو یہ لوگوں پر غالب آگیا تھا۔ یہ روایت مضبوط نہیں؛ کیونکہ ابو بختری نے سیدنا علی (رض) سے نہیں سنا۔ یہ روایت منقطع ہے۔
(ب) سیدنا علی بن أبی طالب (رض) فرماتے ہیں : جب چوہیا کنویں میں گر کر مرجائے تو اس سے ایک یا دو ڈول کھینچے جائیں گے اور اگر پھٹ جائے تو پانچ یا سات ڈول کھینچے جائیں گے اور یہ روایت بھی منقطع ہے۔