(۱۲۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ فِی احْتَجِاجِ مَنِ احْتَجَّ بِالأَثْرِ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ قُلْتُ : فَیُخَالَفُ مَا جَائَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -إِلَی قَوْلِ غَیْرِہِ۔ قَالَ : لاَ۔ قُلْتُ : قَدْ فَعَلْتَ ، وَخَالَفْتَ مَعَ ذَلِکَ عَلِیًّا وَابْنَ عَبَّاسٍ ، زَعَمْتَ أَنَّ عَلِیًّا قَالَ : إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَۃُ فِی الْبِئْرِ نُزِحَ مِنْہَا سَبْعَۃُ أَوْ خَمْسَۃُ أَدْلاَئٍ ، وَزَعَمْتَ أَنَّہَا لاَ تَطْہُرُ إِلاَّ بِعِشْرِینَ أَوْ ثَلاَثِینَ وَزَعَمْتَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسِ نَزَحَ زَمْزَمَ مِنْ زَنْجِیٍّ وَقَعَ فِیہَا ، وَأَنْتَ تَقُولُ : یَکْفِی مِنْ ذَلِکَ أَرْبَعُونَ أَوْ سِتُّونَ دَلْوًا ، وَہَذَا عَنْ عَلِیٍّ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ غَیْرُ ثَابِتٍ۔ [صحیح]
(١٢٧١) امام شافعی (رح) سے اس کے متعلق منقول ہے جو علی (رض) اور ابن عباس (رض) کے اثر کی مخالفت کرتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے علاوہ روایت کی مخالفت کی جائے گی۔ انھوں نے کہا : نہیں : میں نے کہا : آپ نے اس کے باوجود علی اور ابن عباس (رض) کی مخالفت کی ہے ؟ آپ نے گمان کیا کہ سیدنا علی (رض) نے کہا : جب کنویں میں چوہا گرجائے تو اس سے سات یا پانچ ڈول کھینچے جائیں گے اور آپ نے دعویٰ کیا کہ وہ پاک نہیں ہوگا مگر بیس بائیس (ڈول کھینچنے) سے اور آپ نے گمان کیا کہ ابن عباس (رض) نے زنجی سے جو اس میں گرگیا تھا زمزم کا پانی نکالا اور آپ کہہ رہے ہیں کہ چالیس یا ساٹھ ڈول کافی ہیں۔ یہ علی اور ابن عباس (رض) سے ثابت نہیں ہے۔