(۱۲۶۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ َخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِینِکُمُ الأَمَانَۃُ وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ الصَّلاَۃُ وَسَیُصَلِّی أَقْوَامٌ لاَ دِینَ لَہُمْ۔وَفِیمَا رَوَی زِیَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَکَّائِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ حَدَّثَنِی مَنْ لاَ أَتَّہِمُ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ فِی ہِجْرَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : وَأَمَرَ تَعْنِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یَتَخَلَّفَ عَنْہُ بِمَکَّۃَ حَتَّی یُؤَدِّیَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْوَدَائِعَ الَّتِی کَانَتْ عِنْدَہُ لِلنَّاسِ۔ [حسن]
(١٢٦٩٦) ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : پہلی چیز جو تم اپنے دین سے گم پاتے ہو وہ امانت ہے اور آخری چیز جو تم گم کردیتے ہو وہ نماز ہے اور عنقریب لوگ نمازیں پڑھیں گے لیکن ان کا دین نہ ہوگا اور حضرت عائشہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کے بارے میں فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) کو حکم دیا کہ وہ مکہ میں رہیں یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امانتوں کو واپس کریں جو لوگوں کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھیں۔