(۱۲۷۰۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِیٍّ َخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ خَنْبٍ َخْبَرَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ قَالَ قَالَ یَحْیَی حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَہُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَرَّمَہُ بُضَاعَۃً کَانَتْ مَعَہُ فَسُرِقَتْ أَوْ ضَاعَتْ فَغَرَّمَہَا إِیَّاہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : یُحْتَمَلُ أَنَّہُ کَانَ فَرَّطَ فِیہَا فَضَمَّنَہَا إِیَّاہُ بِالتَّفْرِیطِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(١٢٧٠٣) حضرت انس (رض) نے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے اسے کسی چیز کا ذمہ دار ٹھہرایا جو اس کے پاس سے چوری ہوگئی تھی یا ضائع ہوگئی تھی۔
شیخ فرماتے ہیں : اس میں احتمال ہے کہ اس نے کوتاہی کی ہوگی، پس اس کو اس کی کوتاہی کی وجہ سے ضامن ٹھہرایا ہو۔