(۱۲۷۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ : مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی َخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَوْذَبٍ حَدَّثَنِی عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا أَصَابَ غَنِیمَۃً أَمَرَ بِلاَلاً فَنَادَی فِی النَّاسِ فَیَجِیئُونَ بِغَنَائِمِہِمْ فَیُخَمِّسُہَا وَیَقْسِمُہَا فَجَائَ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِکَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا فِیمَا کُنَّا أَصَبْنَاہُ مِنَ الْغَنِیمَۃِ فَقَالَ : أَسَمِعْتَ بِلاَلاً نَادَی ثَلاَثًا ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَمَا مَنَعَکَ أَنْ تَجِیئَ بِہِ ۔ فَاعْتَذَرَ فَقَالَ: کُنْ أَنْتَ تَجِیئُ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَلَنْ أَقْبَلَہُ عَنْکَ ۔ [حسن]
(١٢٧١٩) عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں : جب غنیمت کا مال آتا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت بلال (رض) کو حکم دیتے تھے، وہ لوگوں میں اعلان کرتے وہ اپنی غنیمتیں لاتے، وہ اس میں سے خمس نکالتے اور اسے تقسیم کرتے۔ ایک آدمی بعد میں بالوں کی لگام لے کر آیا اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ ہمیں غنیمت سے ملا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیا تو نے بلال کی آواز سنی تھی، اس نے تین دفعہ بلایا تھا، اس نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : تجھے یہ لے آنے سے کس نے روکا تھا، اس نے معذرت کی یا عذر کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : لے جا تو قیامت کے دن لے کر آئے گا، میں اب تجھ سے قبول نہ کروں گا۔