(۱۲۷۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ َخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلِی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مِمَّنِ الْقَوْمُ؟ ۔ قَالُوا : مِنْ رَبِیعَۃَ قَالَ : مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَیْرَ الْخَزَایَا وَلاَ النَّدَامَی ۔ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا حَیٌّ مِنْ رَبِیعَۃَ وَإِنَّا نَأْتِیکَ مِنْ شُقَّۃٍ بَعِیدَۃٍ وَإِنَّہُ یَحُولُ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ ہَذَا الْحَیُّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَ وَإِنَّا لاَ نَصِلُ إِلَیْکَ إِلاَّ فِی شَہْرٍ حَرَامٍ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نَدْعُو إِلَیْہِ مَنْ وَرَائَ نَا وَنَدْخُلُ بِہِ الْجَنَّۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : آمُرُکُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْہَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ آمُرُکُمْ بِالإِیمَانِ بِاللَّہِ وَحْدَہُ أَتَدْرُونَ مَا الإِیمَانُ بِاللَّہِ؟ شَہَادَۃُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ وَإِقَامُ الصَّلاَۃِ وَإِیتَائُ الزَّکَاۃِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ وَأَنْہَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنِ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِیرِ وَالْمُزَفَّتِ ۔ وَرُبَّمَا قَالَ : وَالْمُقَیَّرِ فَاحْفَظُوہُنَّ وَادْعُوا إِلَیْہِنَّ مَنْ وَرَائَ کُمْ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْجَعْدِ عَنْ شُعْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۳۔ مسلم]
(١٢٧٢٠) ابو جمرۃ کہتے ہیں : میں نے ابن عباس (رض) سے سنا کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کون لوگ ہیں ؟ انھوں نے کہا : ربیعہ سے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : مرحبا قوم کو بغیر کسی ندامت کے۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم ربیعہ کے قبیلہ سے ہیں، ہم آپ کے پاس بڑی مشقت کے بعد آئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان میں کفار کا قبلہ مضر ہے، ہم آپ کے پاس صرف اشہر حرم میں پہنچ سکتے ہیں، پس ہمیں کوئی واضح حکم دے دیں، ہم اس کی طرف اپنے پچھلوں کو بھی دعوت دیں اور ہم جنت میں داخل ہوجائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں، میں تمہیں ایک اللہ پر ایمان کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو ایمان باللہ کیا ہے ؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم غنیمت کے مال سے خمس دو گے اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ دباء (کدو) سے ختم (سبز لاکھی برتن) سے نقیر ( کریدی لکڑی کے برتن سے) مزفت (روغنی برتن سے) سے اور کبھی مقیر کا لفظ بولا اور کہا : ان کو یاد رکھو اور اپنے پچھلوں کو بھی ان کی دعوت دو ۔