(۱۲۷۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: أَنَّ فَاطِمَۃَ وَالْعَبَّاسَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَتَیَا أَبَا بَکْرٍ یَلْتَمِسَانِ مِیرَاثَہُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُمَا حِینَئِذٍ یَطْلُبَانِ أَرْضَہُ مِنْ فَدَکٍ وَسَہْمَہُ مِنْ خَیْبَرَ فَقَالَ لَہُمَا أَبُو بَکْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ إِنَّمَا یَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِی ہَذَا الْمَالِ ۔ وَاللَّہِ إِنِّی لاَ أَدَعُ أَمْرًا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَصْنَعُہُ بَعْدُ إِلاَّ صَنَعْتُہُ قَالَ فَغَضِبَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَہَجَرَتْہُ فَلَمْ تُکَلِّمْہُ حَتَّی مَاتَتْ فَدَفَنَہَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَیْلاً وَلَمْ یُؤْذِنْ بِہَا أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فَکَانَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنَ النَّاسِ وَجْہٌ حَیَاۃَ فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَلَمَّا تُوُفِّیَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا انْصَرَفَتْ وُجُوہُ النَّاسِ عَنْہُ عِنْدَ ذَلِکَ قَالَ مَعْمَرٌ قُلْتُ لِلزُّہْرِیِّ : کَمْ مَکَثَتْ فَاطِمَۃُ بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : سِتَّۃُ أَشْہُرٍ فَقَالَ رَجُلٌ لِلزُّہْرِیِّ : فَلَمْ یُبَایِعْہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی مَاتَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَ : وَلاَ أَحَدٌ مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہَیْنِ عَنْ مَعْمَرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاہَوَیْہِ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَقَوْلُ الزُّہْرِیِّ فِی قُعُودِ عَلِیٍّ عَنْ بَیْعَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی تُوُفِّیَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مُنْقَطِعٌ وَحَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی مُبَایَعَتِہِ إِیَّاہُ حِینَ بُویِعَ بَیْعَۃَ الْعَامَّۃِ بَعْدَ السَّقِیفَۃِ أَصَحُّ وَلَعَلَّ الزُّہْرِیَّ أَرَادَ قُعُودَہُ عَنْہَا بَعْدَ الْبَیْعَۃِ ثُمَّ نُہُوضَہُ إِلَیْہَا ثَانِیًا وَقِیامَہُ بِوَاجِبَاتِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[صحیح۔ بخاری ، مسلم]
(١٢٧٣٢) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ فاطمہ اور عباس، حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئے۔ وہ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میراث تلاش کر رہے تھے اور اس وقت دونوں فدک کی زمین اور خیبر سے حصہ طلب کر رہے تھے، ابوبکر نے ان سے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم وارث نہیں بنائے جاتے، جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور اس مال سے آل محمد کھا سکتے ہیں اور میں بھی وہی معاملہ کروں گا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے، حضرت فاطمہ (رض) غصہ میں آگئیں اور ابوبکر (رض) کو چھوڑ کر چلی گئیں، پھر فوت ہونے تک ان سے بات نہ کی۔ علی (رض) نے رات کو ان کو دفن کیا اور ابوبکر (رض) کو نہ بتایا۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : حضرت فاطمہ (رض) کی زندگی سے لوگوں کے پاس حضرت علی (رض) کے لیے کوئی وجہ تھی، جب فاطمہ فوت ہوگئیں تو لوگوں کی وجوہات دور ہوگئیں۔ معمر کہتے ہیں : میں نے زہری سے کہا : فاطمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کتنی دیر زندہ رہی تھیں، اس نے بتایا : چھ ماہ ایک آدمی نے زہری سے کہا : حضرت علی (رض) نے بیعت نہ کی تھی، حتیٰ کہ فاطمہ فوت ہوگئیں، کہا اور نہ ہی بنی ہاشم کے کسی آدمی نے۔