(۱۲۷۳۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ قَالَ قُلْتُ لأَبِی الْیَمَانِ أَخْبَرَکَ شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَرْسَلَتْ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَسْأَلُہُ مِیرَاثَہَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِمَّا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ -ﷺ- وَفَاطِمَۃُ حِینَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَۃَ النَّبِیِّ -ﷺ- الَّتِی بِالْمَدِینَۃِ وَفَدَکٍ وَمَا بَقِیَ مِنْ خُمُسِ خَیْبَرَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ إِنَّمَا یَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ ہَذَا الْمَالِ ۔ یَعْنِی مَالَ اللَّہِ لَیْسَ لَہُمْ أَنْ یَزِیدُوا عَلَی الْمَأْکَلِ وَإِنِّی وَاللَّہِ لاَ أُغَیِّرُ صَدَقَاتِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنْ حَالِہَا الَّتِی کَانَتْ عَلَیْہِ فِی عَہْدِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَلأَعْمَلَنَّ فِیہَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِیہَا فَأَبَی أَبُو بَکْرٍ أَنْ یَدْفَعَ إِلَی فَاطِمَۃَ مِنْہَا شَیْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَۃُ عَلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مِنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَرَابَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِی فَأَمَّا الَّذِی شَجَرَ بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ مِنْ ہَذِہِ الصَّدَقَاتِ فَإِنِّی لاَ آلُو فِیہَا عَنِ الْخَیْرِ وَإِنِّی لَمْ أَکُنْ لأَتْرُکَ فِیہَا أَمْرًا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَصْنَعُہُ فِیہَا إِلاَّ صَنَعْتُہُ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح]
(١٢٧٣٣) حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ فاطمہ نے ابوبکر (رض) کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وراثت کا سوال کیا اس میں سے جو اللہ نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لوٹایا اور فاطمہ اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صدقہ طلب کر رہی تھیں، مدینہ اور فدک کا اور جو خیبر کے خمس سے باقی بچا تھا، حضرت عائشہ (رض) نے کہا : حضرت ابوبکر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم وارث نہیں بنائے جاتے جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے، اس سے آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھا سکتے ہیں، یعنی اللہ کا مال نہیں ہے ان کے لیے کہ وہ کھانا زیادہ کریں اور اللہ کی قسم میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدقات کو اس کے حال سے بدل نہیں سکتا، جس پہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں تھے اور میں ان میں اسی طرح کام کروں گا جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا، پس ابوبکر (رض) نے فاطمہ (رض) کو دینے سے انکار کردیا، فاطمہ (رض) نے ابوبکر (رض) کو اس طرح پایا، حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت علی سے کہا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قرابت دار میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے کہ میں ان کو اپنے رشتہ داروں سے ملاؤں اور وہ شجر جو میرے اور تمہارے درمیان صدقات کا ہے، میں خیر سے پیچھے نہ رہوں گا اور اس کام کو نہیں چھوڑوں گا، جسے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے دیکھا۔