(۱۲۷۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ الأُوَیْسِیُّ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَأَلَتْ أَبَا بَکْرٍ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَقْسِمَ لَہَا مِیرَاثَہَا مِمَّا تَرَکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِمَّا أَفَائَ اللَّہُ فَقَالَ لَہَا أَبُوبَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: لاَ نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ۔ فَغَضِبَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَہَجَرَتْ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَم تَزَلْ مُہَاجِرَۃً لَہُ حَتَّی تُوُفِّیَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سِتَّۃَ أَشْہُرٍ قَالَ فَکَانَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَسْأَلُ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَصِیبَہَا مِمَّا تَرَکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ خَیْبَرَ وَفَدَکٍ وَصَدَقَتِہِ بِالْمَدِینَۃِ فَأَبَی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَیْہَا ذَلِکَ قَالَ : لَسْتُ تَارِکًا شَیْئًا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعْمَلُ بِہِ إِلاَّ عَمِلْتُ فَإِنِّی أَخْشَی إِنْ تَرَکْتُ شَیْئًا مِنْ أَمْرِہِ أَنْ أَزِیغَ فَأَمَّا صَدَقَتُہُ بِالْمَدِینَۃِ فَدَفَعَہَا عُمَرُ إِلَی عَلِیٍّ وَالْعَبَّاسِ فَغَلَبَ عَلِیٌّ عَلَیْہَا وَأَمَّا خَیْبَرُ وَفَدَکُ فَأَمْسَکَہَا عُمَرُ وَقَالَ ہُمَا صَدَقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَانَتْ لِحُقُوقِہِ الَّتِی تَعْرُوہُ وَنَوَائِبِہِ وَأَمْرُہُمَا إِلَی وَلِیِّ الأَمْرِ فَہُمَا عَلَی ذَلِکَ إِلَی الْیَوْمِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ الأُوَیْسِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ۔
[صحیح]
(١٢٧٣٤) حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر سے سوال کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد کہ وہ اس کے لیے میراث تقسیم کریں، جو اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس ترکہ میں سے دیا تھا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے انھیں کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : ہم وارث نہیں بنائے جاتے جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ فاطمہ (رض) غصہ میں آگئیں ابوبکر (رض) کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ ہمیشہ ایسے ہی رہیں، یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئیں اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں تھیں۔ پس فاطمہ (رض) نے ابوبکر (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ترکہ سے حصہ طلب کیا تھا۔ خیبر، فدک اور مدینہ کے صدقات کا۔ ابوبکر (رض) نے اس سے انکار کردیا اور کہا : میں کوئی ایسا کام نہ چھوڑوں گا جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے مگر میں بھی وہی کروں گا۔ میں ڈرتا ہوں کہ میں کوئی کام چھوڑ دوں کہ میں حق سے پھر جاؤں گا۔ رہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مدینہ کا صدقہ وہ حضرت عمر (رض) نے علی اور عباس کو دے دیا تھا، پس علی اس پر غالب آگئے اور فدک اور خیبر کو عمر نے روک رکھا تھا اور فرمایا : وہ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صدقہ ہیں، اس کے حق دار حوادثات ہیں اور ان دونوں کا معاملہ میری طرف ہے وہ دونوں آج تک ایسے ہی ہیں۔