(۱۲۷۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ : جَائَ تْ فَاطِمَۃُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَتْ : یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمْ أَہْلُہُ؟ قَالَ : لاَ بَلْ أَہْلُہُ۔ قَالَتْ : فَمَا بَالُ الْخُمُسِ۔فَقَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِذَا أَطْعَمَ اللَّہُ نَبِیًّا طُعْمَۃً ثُمَّ قَبَضَہُ کَانَتْ لِلَّذِی یَلِی بَعْدَہُ ۔ فَلَمَّا وَلِیتُ رَأَیْتُ أَنْ أَرُدَّہُ عَلَی الْمُسْلِمِینِ قَالَتْ : أَنْتَ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَعْلَمُ ثُمَّ رَجَعَتْ۔ [حسن۔ احمد ۵۱]
(١٢٧٤٦) ابو الطفیل کہتے ہیں : فاطمہ (رض) ابوبکر (رض) کے پاس آئیں اور کہا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ! کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وارث ہے یا ان کے اہل ؟ ابوبکر (رض) نے کہا : بلکہ ان کے اہل وارث ہیں۔ فاطمہ (رض) نے کہا : خمس کا کیا معاملہ ہے ؟ ابوبکر (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ نے فرمایا : جب اللہ اپنے نبی کو کھلاتا ہے پھر اس کو فوت کر دے تو وہ کھانا (غلہ) اس کا ہوتا ہے جو اس کا والی ہے اس کے بعد۔ پس جب میں والی بنا تو میں نے ارادہ کیا کہ میں اسے مسلمانوں پر لوٹا دوں۔ فاطمہ (رض) نے کہا : آپ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں پھر وہ لوٹ گئیں۔