hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12760

.

سنن البيهقي

12760
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۷۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ بِبُخَارَی حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ أُنَیْفٍ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لأَبِی طَلْحَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : الْتَمِسْ غُلاَمًا مِنْ غِلْمَانِکُمْ یَخْدُمُنِی حَتَّی أَخْرُجَ إِلَی خَیْبَرَ ۔ فَخَرَجَ بِی أَبُو طَلْحَۃَ مُرْدِفِی وَأَنَا غُلاَمٌ رَاہَقْتُ الْحُلُمَ فَکُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا نَزَلَ فَکُنْتُ أَسْمَعُہُ کَثِیرًا یَقُولُ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْہَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ ۔ثُمَّ قَدِمْنَا خَیْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ الْحِصْنَ ذُکِرَ لَہُ جَمَالُ صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَیِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُہَا وَکَانَتْ عَرُوسًا فَاسْتَصْفَاہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِنَفْسِہِ فَخَرَجَ بِہَا حَتَّی بَلَغْنَا سَدَّ الصَّہْبَائِ حَلَّتْ فَبَنَی بِہَا ثُمَّ صَنَعَ حَیْسًا فِی نِطَعٍ صَغِیرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ایذَنْ مَنْ حَوْلَکَ۔ فَکَانَتْ تِلْکَ وَلِیمَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَیٍّ ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُحَوِّی لَہَا وَرَائَ ہُ بِعَبَائَ ۃٍ ثُمَّ یَجْلِسُ عَلَیْہِ ِنْدَ بَعِیرِہِ فَیَضَعُ رُکْبَتَہُ فَتَضَعُ صَفِیَّۃُ رِجْلَہَا عَلَی رُکْبَتِہِ حَتَّی تَرْکَبَ فَسِرْنَا حَتَّی إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَی الْمَدِینَۃِ نَظَرَ إِلَی أُحُدٍ فَقَالَ : ہَذَا جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ ۔ ثُمَّ نَظَرَ إِلَی الْمَدِینَۃِ فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أُحَرِّمُ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ إِبْرَاہِیمُ مَکَّۃَ اللَّہُمَّ بَارِکْ لَہُمْ فِی مُدِّہِمْ وَصَاعِہِمْ۔ لَفْظُ حَدِیثِ قُتَیْبَۃَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ أَیْضًا عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ کَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عَنْ أَنَسٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۶۵]
(١٢٧٥٥) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوطلحہ (رض) سے کہا : اپنے غلاموں میں سے کوئی غلام تلاش کرو جو میری خدمت کرے، یہاں تک کہ میں خیبر کی طرف نکل جاؤں۔ پس ابو طلحہ مجھے اپنی سواری پر ردیف بنا کرلے گئے اور میں بلوغت کے قریب تھا، پس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترتے تھے، میں آپ سے بہت کچھ سنتا تھا، آپ کہتے تھے، (اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، غم اور عاجزی سے سستی، بخل، بزدلی، قرض داری کے بوجھ اور ظالم کے اپنے اوپر غلبہ سے۔
پھر ہم خیبر میں آئے جب اللہ نے آپ کو قلعہ پر فتح دی تو صفیہ بنت حیی کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیا اور تحقیق اس کا خاوند قتل ہوچکا تھا اور وہ نئی دلہن تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اپنے لیے چن لیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو لے کر نکلے یہاں تک کہ ہم سدا صہباء پر پہنچے تو وہ حیض سے پاک ہوئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے خلوت کی۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیس (حلوہ) تیار کرا کر چھوٹے سے دستر خوان پر رکھوایا اور مجھے حکم دیا کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دے دو اور یہی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صفیہ کے ساتھ نکاح کا ولیمہ تھا، آخر ہم مدینہ کی طرف چلے۔ میں نے دیکھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفیہ کی وجہ سے اپنے پیچھے اپنیچادر سے پردہ کیے ہوئے تھے۔ جب صفیہ سوار ہونے لگتیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنا گھٹنا کھڑا رکھتے اور حضرت صفیہ اپنا پاؤں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہوتیں۔ اس طرح ہم چلتے رہے، اور جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد پہاڑ کو دیکھا اور فرمایا : یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں، اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا : اے اللہ ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدان کے درمیان کے خطہ کو حرمت والا قرار دیتا ہوں، جس طرح ابراہیم نے مکہ معظمہ کو حرمت والا قرار دیا تھا، اے اللہ مدینہ کے لوگوں کو ان کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔