hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12761

.

سنن البيهقي

12761
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۷۵۶) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخَتُوَیْہِ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ بَطْحَا قَالُوا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : وَقَعَ فِی سَہْمِ دِحْیَۃَ جَارِیَۃٌ فَقِیلَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُ وَقَعَتْ فِی سَہْمِ دِحْیَۃَ جَارِیَۃٌ جَمِیلَۃٌ قَالَ فَاشْتَرَاہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِسَبْعَۃِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَہَا إِلَی أُمِّ سُلَیْمٍ تَصْنَعُہَا وَتُہَیِّئُہَا قَالَ وَأَحْسِبُہُ قَالَ تَعْتَدُّ فِی بَیْتِہَا وَہِیَ صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیٍّ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ عَفَّانَ۔وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ صَارَتْ صَفِیَّۃُ لِدِحْیَۃَ فِی مَقْسَمِہِ وَجَعَلُوا یَمْدَحُونَہَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ وَیَقُولُونَ مَا رَأَیْنَا فِی السَّبْیِ مِثْلَہَا قَالَ فَبَعَثَ إِلَی دِحْیَۃَ فَأَعْطَاہُ بِہَا مَا أَرَادَ ثُمَّ دَفَعَہَا إِلَی أُمِّی فَقَالَ أَصْلِحِیہَا۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا بَہْزٌ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ فَذَکَرَہُ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ہَاشِمٍ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : الأَمْرُ الَّذِی لَمْ یَخْتَلِفْ فِیہِ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ عِنْدَنَا عَلِمْتُہُ وَلَمْ نَزَلْ نَحْفَظُ مِنْ قَوْلِہِمْ أَنَّہُ لَیْسَ لأَحَدٍ مَا کَانَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ صَفِیِّ الْغَنِیمَۃِ۔ [صحیح]
(١٢٧٥٦) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : دحیۃ کے حصہ میں ایک لونڈی آئی ، کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! دحیۃ کے حصہ میں خوبصورت لونڈی آئی ہے۔ انس (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے سات شخصوں کے بدلے میں خرید لیا اور پھر ام سلیم کے سپرد کردیا کہ ان کو تیار کردیں۔ راوی کہتے ہیں : میرے خیال میں لونڈی نے اس کے گھر عدت گزاری تھی اور وہ صفیہ تھیں۔
(ب) حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ صفیہ دحیہ کے حصہ میں آئیں اور صحابہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس کی تعریفیں کرنے لگے اور وہ کہہ رہے تھے : ہم نے اس جیسی قیدی نہیں دیکھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دحیہ کو بلایا : آپ نے اس کے بدلے دحیہ کو دیا۔ پھر صفیہ کو میری ماں کو دے دیا اور کہا : اسے تیار کرو۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : معاملہ جس میں ہمارے نزدیک علم میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا اور ہم نے ہمیشہ ان کے قول کی حفاظت کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے غنیمت کے مال سے چن لینا تھا۔ وہ آپ کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں تھا۔