(۱۲۷۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ : وَمَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ مَضِیقٍ یُقَالُ لَہُ الصَّفْرَائُ خَرَجَ مِنْہُ إِلَی کَثِیبٍ یُقَالُ لَہُ سَیْرٌ عَلَی مَسِیرَۃِ لَیْلَۃٍ مِنْ بَدْرٍ أَوْ أَکْثَرَ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّفَلَ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی ذَلِکَ الْکَثِیبِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَمَنْ حَوْلَ سَیْرٍ وَأَہْلُہُ مُشْرِکُونَ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَمْوَالَ بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَسَبْیَہُمْ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِی غَنَمِہَا فِیہِ قَبْلَ یَتَحَوَّلَ عَنْہُ وَمَا حَوْلَہُ کُلُّہُ بِلاَدُ شِرْکٍ وَأَکْثَرُ مَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأُمَرَائُ سَرَایَاہُ مَا غَنِمُوا بِبِلاَدِ أَہْلِ الْحَرْبِ۔ [ضعیف]
(١٢٧٥٧) اسحاق بن یسار کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزرے، جب مضیق سے نکلے جس کو صفراء کہا جاتا ہے کثیب کی طرف جو بدر سے ایک رات کی مسافت پر ہے یا اس سے زیادہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غنیمت کو مسلمانوں میں اس کثیب پر تقسیم کیا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اس مسافت کے اردگرد مشرک تھے اور شافعی نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی مصطلق کے اموال اور ان کے قیدیوں کو تقسیم کیا اس جگہ پر جہاں یہ غنیمت حاصل ہوئی تھی، قبل اس سے کہ وہاں سے پھرتے اور اس کے اردگرد سارے مشرکوں کے گھر تھے اور اکثر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے امراء جو بھی غنیمت ملتی اسے اہل حرب کے شہروں میں ہی تقسیم کرتے تھے۔