hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12766

.

سنن البيهقي

12766
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۷۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ َخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ َخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ وَسَمِعْتُ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ یَقُولُ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ َخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ َخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ َخْبَرَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِیرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِی مُحَمَّدٍ مَوْلَی أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیِّ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَامَ حُنَیْنٍ فَلَمَّا الْتَقَیْنَا کَانَتْ لِلْمُسْلِمِینَ جَوْلَۃٌ فَرَأَیْتُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِکِینَ قدْ عَلاَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَالَ فَاسْتَدَرْتُ لَہُ حَتَّی أَتَیْتُ مِنْ وَرَائِہِ فَضَرَبْتُہُ عَلَی حَبْلِ عَاتِقِہِ ضَرْبَۃً فَأَقْبَلَ عَلَیَّ فَضَمَّنِی ضَمَّۃً وَجَدْتُ مِنْہَا رِیحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَکَہُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِی فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقُلْتُ لَہُ : مَا بَالُ النَّاسِ قَالَ : أَمْرُ اللَّہِ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ قَتَلَ قَتِیلاً لَہُ عَلَیْہِ بَیِّنَۃٌ فَلَہُ سَلَبُہُ ۔ فَقُمْتُ فَقُلْتُ : مَنْ یَشْہَدُ لِی ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَہَا الثَّانِیَۃَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ : مَنْ یَشْہَدُ لِی ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَہَا الثَّالِثَۃَ فَقُمْتُ فِی الثَّالِثَۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا لَکَ یَا أَبَا قَتَادَۃَ؟ ۔ فَاقْتَصَصْتُ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : صَدَقَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَسَلَبُ ذَلِکَ الْقَتِیلِ عِنْدِی فَأَرْضِہِ مِنْہُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لاَہَا اللَّہِ إِذًا لاَ یَعْمِدُ إِلَی أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّہِ یُقَاتِلُ عَنِ اللَّہِ فَیُعْطِیَکَ سَلَبَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : صَدَقَ فَأَعْطِہِ إِیَّاہُ ۔ قَالَ أَبُو قَتَادَۃَ : فَأَعْطَانِیہِ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِہِ مَخْرِفًا فِی بَنِی سَلِمَۃَ فَإِنَّہُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُہُ فِی الإِسْلاَمِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ مَالِکٌ : الْمَخْرِفُ النَّخْلُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔[صحیح۔ بخاری، مسلم]
(١٢٧٦١) حضرت ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین کے دن نکلے، جب دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان شکست میں تھے، میں نے مشرکین کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسلمانوں کے آدمی پر غلبہ پا رہا ہے، (قتادہ کہتے ہیں) میں واپس پھرا، میں اس کے پیچھے سے آیا، میں نے اس کی گردن پر ضرب لگائی۔ وہ میری طرف لپکا۔ اس نے مجھے دبوچ لیا۔ میں نے اس سے اپنی روح قبض ہوتی پائی، پھر وہ فوت ہوگیا، اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں عمر بن خطاب (رض) کو ملا۔ میں نے پوچھا : مسلمانوں کا کیا حال ہے ؟ عمر نے کہا : اللہ والا معاملہ ہے پھر لوگ فتح پر لوٹ آئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کوئی قتل کرے پھر اس پر گواہ بنا لے تو اس کے لیے مقتول کا سامان ہے۔ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا : کون میری گواہی دے گا (جب کوئی نہ کھڑا ہوا) تو میں بیٹھ گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسری دفعہ پھر کہا : میں پھر کھڑا ہوا۔ میں نے کہا : کون میری گواہی دے گا (جب کوئی نہ اٹھا) تو میں بیٹھ گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر تیسری بار وہی بات کہی، میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوقتادہ تجھے کیا ہے ؟ میں نے سارا قصہ بیان کیا۔ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس نے سچ کہا اور اس کا مال میرے پاس ہے، آپ قتادہ کو راضی کردیں، حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم وہ نہ قصد کریں گے، اللہ کے شیر کے بارے میں جو اللہ کی طرف سے لڑا ہے کہ تجھے اس کا سلب دے دیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا، پس تو قتادہ کو دے دے۔ ابوقتادہ نے کہا : اس نے مجھے دے دیا۔ میں نے اس ذرع کو بیچ دیا اس کی قیمت سے بنو سلمہ میں ایک باغ خریدا وہ میرا پہلا مال تھا، جو اسلام میں حاصل ہوا۔