hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12767

.

سنن البيهقي

12767
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۷۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْکَجِّیُّ یَعْنِی أَبَا مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ َخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ ہَوَازِنَ جَائَ تْ یَوْمَ حُنَیْنٍ بِالنِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ وَالإِبِلِ وَالْغَنَمِ فَجَعَلُوہُمْ صُفُوفًا یُکَثِّرُونَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَالْتَقَی الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِکُونَ فَوَلَّی الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِینَ کَمَا قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا عِبَادَ اللَّہِ أَنَا عَبْدُ اللَّہِ وَرَسُولُہُ یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَنَا عَبْدُ اللَّہِ وَرَسُولُہُ ۔ فَہَزَمَ اللَّہُ الْمُشْرِکِینَ وَلَمْ یُضْرَبْ بِسَیْفٍ وَلَمْ یُطْعَنْ بِرُمْحٍ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَوْمَئِذٍ : مَنْ قَتَلَ کَافِرًا فَلَہُ سَلَبُہُ فَأَخَذَ ۔ وَفِی حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَۃَ یَوْمَئِذٍ عِشْرِینَ رَجُلاً فَأَخَذَ أَسْلاَبَہُمْ فَقَالَ أَبُو قَتَادَۃَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی قَدْ ضَرَبْتُ رَجُلاً عَلَی حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَیْہِ دِرْعٌ عَجِلْتُ عَنْہُ أَنْ آخُذَ سَلَبَہُ فَانْظُرْ مَعَ مَنْ ہِیَ فَأَعْطِنِیہَا فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا أَخَذْتُہَا فَأَرْضِہِ مِنْہَا وَأَعْطِنِیہَا فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ لاَ یُسْأَلُ شَیْئًا إِلاَّ أَعْطَاہُ أَوْ یَسْکُتُ فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّہِ لاَ یَفِیئُہَا اللَّہُ تَعَالَی عَلَی أَسَدٍ مِنْ أُسْدِہِ وَیُعْطِیکَہَا فَضَحِکَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَقَالَ : صَدَقَ عُمَرُ ۔ وَلَقِیَ أَبُو طَلْحَۃَ أُمَّ سُلَیْمٍ وَمَعَہَا خَنْجَرٌ فَقَالَ: یَا أُمَّ سُلَیْمٍ مَا ہَذَا مَعَکِ؟ قَالَتْ: إِنْ دَنَا مِنِّی رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ أَبْعَجُ بَطْنَہُ فَأَخْبَرَ بِذَلِکَ أَبُو طَلْحَۃَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُولَ اللَّہِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا الطُّلَقَائَ فَقَالَ: یَا أُمَّ سُلَیْمٍ إِنَّ اللَّہَ قَدْ کَفَی وَأَحْسَنَ۔ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ آخِرَ ہَذَا الْحَدِیثِ فِی قِصَّۃِ أُمِّ سُلَیْمٍ وَہُوَ صَحِیحٌ عَلَی شَرْطِہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۸۰۹]
(١٢٧٦٢) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ ہوازن نے حنین کے دن عورتوں، بچوں، اونٹوں، بکریوں کو لے آئے، انھوں نے سب کچھ صفوں میں کھڑا کردیا۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر زیادہ تھے۔ مسلمانوں اور مشرکوں کا آمنا سامنا ہوا۔ مسلمان واپس پلٹنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اے انصار کی جماعت ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی اور نہ تلوار چلائی گئی اور نہ کوئی نیزہ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن کہا جو کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سلب (مال) قاتل کا ہوگا، پس وہ پکڑ لے۔ ابوداؤد کی روایت میں ہے، ابو طلحہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا، پس بیس کا سلب لیا۔ ابوقتادہ (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے ایک آدمی کی گردن اتاری تھی اس پر ایک درع تھی، میں نے جلدی کی، اسے کہ ذرع لے لوں۔ دیکھو وہ کس کے پاس ہے وہ مجھے دے دو ۔ ایک آدمی نے کہا : میں نے پکڑی، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے راضی کردیں اور وہ مجھے دے دو ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے اور کوئی سوال نہ کیا تھا کہ اسے دے دو ۔ یہ خاموش ہی تھے کہ عمر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ نہیں لوٹائیں گے اپنے شیروں میں سے کسی شیر پر کہ وہ تجھے دے دے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور فرمایا : عمر نے سچ کہا ہے اور ابو طلحہ ام سلیم کو ملے اس کے پاس خنجر تھا، ابوطلحہ نے کہا : اے ام سلیم ! یہ تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے کہا اگر میرے قریب مشرکوں کا کوئی آدمی آیا تو اسے پیٹ میں ماروں گی۔ ابو طلحہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر دی۔ ام سلیم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے علاوہ جو بھی ہے اسے قتل کر دو ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : ام سلیم ہمیں کافی ہے اور اس نے ہم پر احسان کیا ہے۔