(۱۲۷۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ یَعْنِی الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ہَوَازِنَ فَبَیْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّی عَامَّتُنَا مُشَاۃٌ فِینَا ضَعْفٌ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ فَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حِقْوِ الْبَعِیرِ فَقَیَّدَ بِہِ جَمَلَہُ ثُمَّ مَالَ إِلَی الْقَوْمِ فَلَمَّا رَأَی ضَعْفَہُمْ أَطْلَقَہُ ثُمَّ أَنَاخَہُ فَقَعَدَ عَلَیْہِ ثُمَّ خَرَجَ یَرْکُضُ وَاتَّبَعَہُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَلَی نَاقَۃٍ وَرْقَائَ مِنْ ظَہْرِ الْقَوْمِ فَخَرَجْتُ أَعْدُو فَأَدْرَکْتُہُ وَرَأْسُ النَّاقَۃِ عِنْدَ وَرِکِ الْبَعِیرِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّی أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُہُ فَلَمَّا صَارَتْ رُکْبَتُہُ بِالأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَیْفِی فَأَضْرِبُہُ فَنَدَرَ رَأْسُہُ فَجِئْتُ بِرَاحِلَتِہِ وَمَا عَلَیْہَا أَقُودُہُ فَاسْتَقْبَلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی النَّاسِ مُقْبِلاً فَقَالَ : مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟ ۔ قَالُوا : ابْنُ الأَکْوَعِ قَالَ : لَہُ السَّلَبُ أَجْمَعُ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٢٧٦٥) سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ ہوازن کیا، ہم ناشتہ کر رہے تھے، ہم میں کمزور اور پیدل چلنے والے بھی تھے۔ ایک آدمی سرخ رنگ کے اونٹ پر آیا۔ اس نے ایک تسمہ اونٹ کی کمر سے کھینچا۔ پھر اس سے اسے باندھ دیا۔ پھر قوم میں آیا، جب ان کی کمزوری کو دیکھا تو اونٹ کا تسمہ کھولا۔ پھر اسے بٹھایا اور اس پر سوار ہو کر بھاگ گیا، مسلمانوں کے ایک آدمی نے ایک خاکی رنگ کی اونٹنی پر اس کا پیچھا کیا۔ میں بھی نکلا کہ اسے لوٹاؤں، پس میں نے اسے پا لیا اور میری اونٹنی اس کے اونٹ کے قریب پہنچ گئی، پھر میں آگے بڑھا۔ میں نے اس کے اونٹ کی لگام کو پکڑا اور اسے بٹھایا، جب اس کے گھٹنے زمین پر لگ گئے تو میں نے اپنی تلوار نکالی، اسے ماری اور اس کا سر علیحدہ کردیا، پھر میں اس کی اونٹنی اور جو اس پر تھا لے آیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کس نے قتل کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : ابن اکوع نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے لیے سارا سامان ہے۔