(۱۲۷۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْخَفَّافُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِیدٍ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ : عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنِی ہَارُونُ بْنُ یَحْیَی بْنِ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِی بَلْتَعَۃَ الْمَدَنِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو رَبِیعَۃَ الْحَرَّانِیُّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ أَبِی أَنَسٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ سَمِعَ حَاطِبَ بْنَ أَبِی بَلْتَعَۃَ یَقُولُ : أَنَّہُ طَلَعَ عَلَیَّ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی أُحُدٍ وَہُوَ یَشْتَدُّ وَفِی یَدِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ التُّرْسَ فِیہِ مَائٌ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَغْسِلُ وَجْہَہُ مِنْ ذَلِکَ الْمَائِ فَقَالَ لَہُ حَاطِبٌ : مَنْ فَعَلَ بِکَ ہَذَا؟ قَالَ : عُتْبَۃُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ ہَشَمَ وَجْہِی وَدَقَّ رَبَاعِیَتِی بِحَجَرٍ رَمَانِی ۔ قُلْتُ : إِنِّی سَمِعْتُ صَائِحًا یَصِیحُ عَلَی الْجَبَلِ قُتِلَ مُحَمَّدٌ فَأَتَیْتُ وَکَأَنْ قَدْ ذَہَبَ رُوحِی قُلْتُ أَیْنَ تَوَجَّہَ عُتْبَۃُ فَأَشَارَ إِلَی حَیْثُ تَوَجَّہُ فَمَضَیْتُ حَتَّی ظَفَرْتُ بِہِ فَضَرَبْتُہُ بِالسَّیْفِ فَطَرَحْتُ رَأْسَہُ فَہَبَطْتُ فَأَخَذْتُ رَأْسَہُ وَسَلَبَہُ وَفَرَسَہُ وَجِئْتُ بِہَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَلَّمَ ذَلِکَ إِلَیَّ وَدَعَا لِی فَقَالَ : رَضِیَ اللَّہُ عَنْکَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْکَ ۔ [ضعیف جداً]
(١٢٧٧٠) انس بن مالک (رض) نے حاطب بن ابی بلتعہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کے دن میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکلیف میں تھے اور حضرت علی (رض) کے ہاتھ میں پانی کا برتن تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پانی سے اپنا چہرہ دھو رہے تھے، حاطب نے آپ سے کہا : آپ کے ساتھ یہ کس نے کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عتبہ بن ابی وقاص نے میرے چہرے پر مارا اور میرے دانت نکال دیے، پتھر کے ساتھ۔ میں نے کہا : میں نے یہ آواز سنی تھی، پہاڑ پر کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کر دییگئے ہیں اور میں آیا گویا کہ میری روح نکل رہی ہے، میں نے کہا : عتبہ کہاں ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ کیا، فلاں طرف ہے، میں اس کی طرف گیا یہاں تک کہ میں کامیاب ہوگیا۔ میں نے اسے تلوار ماری، پس میں نے اس کا سر اتار دیا۔ پھر میں نے اس کا سر اور اس کا سامان اور اس کا گھوڑا پکڑا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ مجھے دے دیا اور میرے لیے دعا کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اللہ تجھ سے راضی ہو ، اللہ تجھ سے راضی ہو۔