hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12784

.

سنن البيهقي

12784
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۷۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ َخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُطَّۃَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہَمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ہُوَ الْوَاقِدِیُّ قَالَ وَقِیلَ : إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ ضَرَبَ سَاقَیْ مَرْحَبٍ فَقَطَعَہُمَا فَقَالَ مَرْحَبٌ : أَجْہِزْ عَلَیَّ یَا مُحَمَّدُ فَقَالَ مُحَمَّدٌ : ذُقِ الْمَوْتَ کَمَا ذَاقَہُ أَخِی مَحْمُودٌ وَجَاوَزَہُ فَمَرَّ بِہِ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَضَرَبَ عُنُقَہُ وَأَخَذَ سَلَبَہُ فَاخْتَصَمَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی سَلَبِہِ۔ فَقَالَ مُحَمَّدٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاللَّہِ مَا قَطَعْتُ رِجْلَیْہِ وَتَرَکْتُہُ إِلاَّ لِیَذُوقَ الْمَوْتَ وَقَدْ کُنْتُ قَادِرًا عَلَی أَنْ أُجْہِزَ عَلَیْہِ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : صَدَقَ ضَرَبْتُ عُنُقَہُ بَعْدَ أَنْ قَطَعَ رِجْلَیْہِ فَأَعْطَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَلَبَہُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ سَیْفَہُ وَدِرْعَہُ وَمِغْفَرَہُ وَبَیْضَتَہُ وَکَانَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ سَیْفُہُ فِیہِ کِتَابٌ لاَ یُدْرَی مَا ہُوَ حَتَّی قَرَأَہُ یَہُودِیٌّ مِنْ یَہُودِ تَیْمَائَ فَإِذَا فِیہِ ہَذَا سَیْفُ مَرْحَبٍ مَنْ یَذُقْہُ یَعْطَبْ۔ [ضعیف جداً]
(١٢٧٧٩) واقدی فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ نے مرحب کی پنڈلیوں پر ضرب لگائی، دونوں کو کاٹ دیا۔ مرحب نے کہا : اے محمد ! مجھے جلدی قتل کر دو ۔ محمد نے کہا : موت کا ذائقہ چکھو جیسے میرے بھائی محمود نے چکھا تھا اور اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ حضرت علی (رض) اس کے پاس سے گزرے، آپ نے اس کی گردن اتار دی اور اس کا سامان لے لیا اوہ دونوں (محمد اور علی (رض) ) اپنا سلب کا جھگڑالے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ محمد (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم میں نے ٹانگیں کاٹ کر اس لیے چھوڑا تھا کہ وہ موت کا ذائقہ لے اور تحقیق میں اسے مکمل ختم کرنے پر بھی قادر تھا، حضرت علی (رض) نے کہا : اس نے سچ کہا ہے، میں نے تو صرف اس کی گردن اتاری ہے اس کی ٹانگیں کاٹنے کے بعد۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محمد بن مسلمہ کو مرحب کی تلوار، درع، خود دیا اور آل محمد بن مسلمہ کے پاس وہ تلوار ہی اور اس پر کچھ لکھا ہوا تھا، لیکن کوئی نہ جانتا تھا کہ کیا لکھا ہے یہاں تک کہ تیماء کے ایک یہودی نے اسے پڑھا۔ اس میں لکھا تھا : یہ مرحب کی تلوار ہے جو اسے چھوئے گا وہ ہلاک ہوجائے گا۔