(۱۲۷۸۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ َخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ الْبَرَائَ بْنَ مَالِکٍ قَتَلَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مِائَۃَ رَجُلٍ إِلاَّ رَجُلاً مُبَارَزَۃً وَإِنَّہُمْ لَمَّا غَزَوِا الزَّارَۃَ خَرَجَ دِہْقَانُ الزَّارَۃِ فَقَالَ رَجُلٌ وَرَجُلٌ فَبَرَزَ إِلَیْہِ الْبَرَائُ فَاخْتَلَفَا بِسَیْفَیْہِمَا ثُمَّ اعْتَنَقَا فَتَوَرَّکَہُ الْبَرَائُ فَقَعَدَ عَلَی کَبِدِہِ ثُمَّ أَخَذَ السَّیْفَ فَذَبَحَہُ وَأَخَذَ سِلاَحَہُ وَمِنْطَقَتَہُ وَأَتَی بِہِ عُمَرَ فَنَفَّلَہُ السِّلاَحَ وَقَوَّمَ الْمِنْطَقَۃَ ثَلاَثِینَ أَلْفًا فَخَمَّسَہَا وَقَالَ : إِنَّہَا مَالٌ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : ہَذِہ الرِّوَایَۃُ مِنْ خُمْسِ السَّلَبِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَیْسَتْ مِنْ رِوَایَتِنَا وَلَہُ رِوَایَۃٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی زَمَانِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تُخَالِفُہَا۔ [ضعیف]
(١٢٧٨٨) حصرت انس (رض) سے براء بن مالک نے مشرکین کے سو آدمیوں کو قتل کیا تھا، مگر ایک آدمی نے مبارزت کی۔ براء نے اس کا مقابلہ کیا، دونوں کی تلواریں ٹکرا گئیں۔ دونوں نے گردنیں اتارنا چاہیں۔ براء اس کی کمر پر بیٹھ گئے اور تلوار نکال کر اسے ذبح کردیا اور اس کا اسلحہ اور کمر پٹی لے کر عمر (رض) کے پاس آئے۔ پس عمر (رض) نے اسلحہ براء کو دے دیا اور کمر پٹی کی قیمت لگائی تیس ہزار اور اس میں سے خمس نکالا اور کہا : وہ مال ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : سلب سے خمس والی روایات عمر (رض) سے ہماری نہیں ہیں اور سعد بن ابی وقاص (رض) عمر (رض) کے دور میں اس کی مخالفت کرتے تھے۔