hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12835

.

سنن البيهقي

12835
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۸۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا ُحَمَّدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا افْتَتَحَ الشَّامَ قَامَ إِلَیْہِ بِلاَلٌ فَقَالَ : لَتَقْسِمَنَّہَا أَوْ لَنَتَضَارَبَنَّ عَلَیْہَا بِالسَّیْفِ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَوْلاَ أَنِّی أَتْرُکُ یَعْنِی النَّاسَ بَبَّانًا لاَ شَیْئَ لَہُمْ مَا فَتَحْتُ قَرْیَۃً إِلاَّ قَسَمْتُہَا سُہْمَانًا کَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَیْبَرَ وَلَکِنْ أَتْرُکُہَا لِمَنْ بَعْدَہُمْ جِزْیَۃً یَقْتَسِمُونَہَا۔ وَرَوَاہُ نَافِعٌ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَصَابَ النَّاسُ فَتْحًا بِالشَّامِ فِیہِمْ بِلاَلٌ قَالَ وَأَظُنُّہُ ذَکَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَکَتَبُوا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِسْمَتِہِ کَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِخَیْبَرَ فَأَبَی وَأَبَوْا فَدَعَا عَلَیْہِمْ فَقَالَ : اللَّہُمَّ اکْفِنِی بِلاَلاً وَأَصْحَابَ بِلاَلٍ۔ وَفِی کُلِّ ذَلِکَ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَرَی مِنَ الْمَصْلَحَۃِ إِقْرَارَ الأَرَاضِی وَکَانَ یَطْلُبُ اسْتِطَابَۃَ قُلُوبِ الْغَانِمِینَ وَإِذَا لَمْ یَرْضَوْا بِتَرْکِہَا فَالْحُجَّۃُ فِی قَسْمَہَا قَائِمَۃٌ بِمَا ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی قِسْمَۃِ خَیْبَرَ وَقَدْ خَالَفَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَبِلاَلٌ وَأَصْحَابُہُ وَمُعَاذٌ عَلَی شَکٍّ مِنَ الرَّاوِی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِیمَا رَأَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی فَتْحِ السَّوَادِ وَقَسْمَہِ بَیْنَ الْغَانِمِینَ حَتَّی اسْتَطَابَ قُلُوبَہُمْ بِالرَّدِّ مَا یُوَافِقُ قَوْلَ غَیْرِہِ وَذَلِکَ یَرِدُ فِی مَوْضِعِہِ مِنَ الْمُخْتَصَرِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔[ضعیف]
(١٢٨٣٠) زید بن اسلم سے روایت ہے کہ جب شام فتح ہوا تو عمر بن خطاب (رض) نے وہاں بلال کو مقرر کیا۔ اس نے کہا : اسے تقسیم کردینا یا پھر ہم وہاں تلوار سے مضاربت کریں گے۔ عمر (رض) نے کہا : اگر مجھے لوگوں کا خیال نہ ہوتا تو جو بھی بستی وغیرہ فتح کرتا تو اس کو حصوں میں تقسیم کردیتا، جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر تقسیم کیا تھا، لیکن میں نے بعد والوں کے لیے جزیہ پر چھوڑ دیا کہ وہ تقسیم کرلیں گے۔
(ب) نافع کہتے ہیں : لوگوں کو شام میں فتح ملی۔ ان میں بلال بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں : میرے خیال میں اس نے ذکر کیا کہ معاذ بن جبل نے عمر بن خطاب (رض) کو اس کی تقسیم کے بارے میں لکھاجی سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر تقسیم کیا تھا۔ عمر (رض) نے انکار کردیا، انھوں نے بھی انکار کردیا۔ پس آپ نے ان کو بلایا اور کہا : اے اللہ ! مجھے بلال اور اصحاب بلال سے کافی ہوجا۔
اور اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ عمر (رض) مصلحت کی خاطر زمین برقرار رکھتے تھے اور وہ غنیمت پانے والوں کی خوشی کا لحاظ کرتے تھے اور جب وہ راضی نہ ہوتے تو چھوڑ دیتے تھے اور ان کا تقسیم کرنا درست ہے۔ اس لیے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خیبر کی تقسیم ثابت ہے اور زبیر بن عوام، بلال اور اس کے ساتھیوں نے اور معاذ کے بارے راوی کو شک ہے، انھوں نے عمر (رض) کی مخالفت کی تھی۔