(۱۲۸۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیُّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَیْلاً قِبَلَ نَجْدٍ فَجَائَ تْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِی حَنِیفَۃَ یُقَالُ لَہُ ثُمَامَۃُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِیُّ سَیِّدُ أَہْلِ الْیَمَامَۃِ فَرَبَطُوہُ بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مَاذَا عِنْدَکَ یَا ثُمَامَۃُ؟ ۔ قَالَ : عِنْدِی یَا مُحَمَّدُ خَیْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاکِرٍ وَإِنْ کُنْتَ تُرِیدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْہُ مَا شِئْتَ فَتَرَکَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی إِذَا کَانَ مِنَ الْغَدِ قَالَ لَہُ : مَا عِنْدَکَ یَا ثُمَامَۃُ؟ ۔ قَالَ قُلْتُ لَکَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاکِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ کُنْتَ تُرِیدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَی مِنْہُ مَا شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَطْلِقُوا ثُمَامَۃَ ۔ فَانْطَلَقَ إِلَی نَخْلٍ قَرِیبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ یَا مُحَمَّدُ وَاللَّہِ مَا کَانَ عَلَی الأَرْضِ وَجْہٌ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ وَجْہِکَ وَقَدْ أَصْبَحَ وَجْہُکَ أَحَبَّ الْوُجُوہِ کُلِّہَا إِلَیَّ وَاللَّہِ مَا کَانَ مِنْ دِینٍ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ دِینِکَ فَأَصْبَحَ دِینُکَ أَحَبَّ الدِّینِ کُلِّہِ إِلَیَّ وَاللَّہِ مَا کَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ بَلَدِکَ فَأَصْبَحَ بَلَدُکَ أَحَبَّ الْبِلاَدِ إِلَیَّ وَإِنْ خَیْلَکَ أَخَذَتْنِی وَأَنَا أُرِیدُ الْعُمْرَۃَ فَمَاذَا تَرَی؟ فَبَشَّرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَمَرَہُ أَنْ یَعْتَمِرَ فَلَمَّا قَدِمَ مَکَّۃَ قَالَ لَہُ قَائِلٌ : صَبَوْتَ یَا ثُمَامَۃُ فَقَالَ : لاَ وَلَکِنِّی أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَاللَّہِ لاَ تَأْتِیکُمْ حَبَّۃُ حِنْطَۃٍ حَتَّی یَأْذَنَ فِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ [بخاری ۴۳۷۲]
(١٢٨٣٥) سعید بن ابی سعید نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قافلہ نجد کی طرف بھیجا۔ وہ بنی حنیفہ کا ایک آدمی پکڑ لائے، جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا، اہل یمامہ کا سردار۔ انھوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ثمامہ تیرا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بہتری ہے۔ اگر تم مجھے قتل کرو گے تو خون میں تمہیں قتل کیا جائے گا اور اگر تم احسان کرو گے تو تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا اور اگر آپ مال کا ارادہ رکھتے ہیں تو سوال کریں، جتنا آپ چاہیں گے آپ کو دیا جائے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے گئے۔ اگلے دن پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اے ثمامہ ! کیسے ہو ؟ اس نے کہا : میں نے آپ سے کہا تھا، اگر احسان کرو گے تو احسان کا بدلہ دیا جائے گا اور اگر قتل کر دو گے تو تمہیں بھی قتل کیا جائے گا۔ اگر مال چاہیے تو جتنا مانگو گے اتنا ہی دیا جائے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : ثمامہ کو چھوڑ دو ۔ وہ مسجد کے قریب ایک باغ میں گیا، اس نے غسل کیا۔ پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی قسم ! میرے نزدیک آپ کی زمین سے زیادہ بغض والی کوئی زمین نہ تھی، پس آپ کا شہر مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے اور میرے نزدیک زمین کا کوئی چہرہ اتنا بغض والا نہ تھا جتنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تھا، لیکن آپ کا چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہوگیا اور اللہ کی قسم کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ بغض والا نہ تھا، لیکن آپ کا دین سب سے زیادہ محبوب بن گیا اور جب آپ کے لشکر نے مجھے پکڑا تو میرا ارادہ عمرہ کرنے کا تھا پس آپ کا کیا خیال ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے خوشخبری دی اور عمرہ کرنے کا حکم دیا۔ جب وہ مکہ میں آیا تو ایک کہنے والے نے کہا : اے ثمامہ ! تو بےدین ہوگیا ہے۔ ثمامہ نے کہا : نہیں بلکہ میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ اللہ کی قسم اب تمہارے پاس ایک دانہ بھی نہ آئے گا جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجازت نہ دے دیں۔